کراچی( نمائندہ خصوصی) ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے بھینس کے دودھ کی پیداواری لاگت سے متعلق تازہ اور تصدیق شدہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق کراچی میں بھینس کے دودھ کی فی لیٹر پیداواری لاگت 300 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایک بھینس پر یومیہ مجموعی لاگت 2406 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس میں کیپیٹل (Depreciation)، فیڈنگ اور مینجمنٹ اخراجات شامل ہیں۔ اوسطاً 8 لیٹر دودھ پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے فی لیٹر
لاگت تقریباً 300.75 روپے بنتی ہے۔ایسوسی ایشن نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جانوروں کی خوراک (ونڈا، بھوسہ، سبز چارہ) کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے- بجلی، فیول اور پانی کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے- لیبر اور ویٹرنری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہےنے ڈیری فارمنگ کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔اس کے باوجود، فارمرز کو سرکاری طور پر کم قیمت پر دودھ فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور فارمرز کے معاشی استحکام کو تباہ کر رہا ہے۔ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے مطالبات کے مطابق دودھ کی قیمت کا فوری تعین حقیقی
پیداواری لاگت کے مطابق کیا جائ- غیر حقیقت پسندانہ پرائس کنٹرول پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائ- یا پھر دودھ کی قیمتوں کو مکمل طور پر آزاد (Deregulate) کر دیا جائے تاکہ مارکیٹ خود قیمت کا تعین کر سکے لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف پیکج دیا جائ- ایک شفاف اور منصفانہ قیمتوں کا نظام متعارف کروایا جائےایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں دودھ کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔
“

