کوئٹہ۔( نمائندہ خصوصی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں تعلیم کے شعبے کی بہتری اور آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے جامع حکمت عملی پر غور کیا گیا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر بچے کو سکول تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم میں
سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے اور حکومت صوبے میں تعلیمی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو بہتر مواقع میسر آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا تاکہ تعلیمی شعبے میں حقیقی اور دیرپا بہتری لائی جاسکے۔اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے نمایاں خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے 5سالہ جامع پروگرام تجویز کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں تک لایا جا سکے۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 679 پرائمری اور 409 مڈل سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔اجلاس میں تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے طالبات کو معقول ماہانہ وظیفہ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی تاکہ بچیوں کی تعلیم کے فروغ اور سکولوں میں ان کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے 174 ارب روپے کی لاگت سے 308 محکمانہ ترقیاتی سکیموں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
