اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) ایران میں بچیوں کے اسکول پر امریکی واسرائیلی حملے میں 165 معصوم بچیوں کی شہادت انسانیت کے نام ایک سیاہ دھبہ ہے جسے امریکی واسرائیلی افواج کا جنگی جرائم میں بھیانک سیاہ باب کا اضافہ ہے ان خیالات کا اظہار رکن بلوچستان اسمبلیکامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ممبر ۔ایمان پاکستان ٹرسٹ کی چیئرپرسن محترمہ فرح عظیم شاہ نے گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک ویڈیو پیغام میں کیا ۔ محترمہ فرح عظیم شاہ کہا کہآج ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا ایک دل دہلا دینے والے سانحے کی گواہ بن رہی ہے۔ایران میں معصوم بچے، ننھی بچیاں جو
اسکول گئیں تھیں تاکہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھ سکیں، ایک تباہ کن حملے میں مار دی گئیں۔ تقریباً 165 معصوم لڑکیوں نے اپنی جانیں گنوا دیں۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ یہ فوجی نہیں تھیں، یہ طالبات تھیں، بیٹیاں تھیں اور آنے والے کل کی امید تھیں۔جنگ کبھی کسی مسئلے کا خاتمہ نہیں کرتی۔ جب بم گرتے ہیں تو اصل میں انسانیت ہار جاتی ہے۔۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے مزید کہاآج میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوں۔مسٹر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب آپ اقتدار میں آئے تو دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کو یقین تھا کہ آپ ایک ایسے رہنما بن سکتے ہیں جو دنیا میں امن لا سکے یا تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کر سکے۔لیکن آج دنیا بھر کے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر کیوں امن کا راستہ تباہی کے راستے سے بدل دیا گیا ہے؟۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے مزید کہا کہ تاریخ رہنماؤں کو ان جنگوں سے نہیں یاد رکھتی جو وہ شروع کرتے ہیں بلکہ اس امن سے یاد رکھتی ہے جو وہ قائم کرتے ہیں بائبل میں ہمیں امن کا ایک طاقتور پیغام دیتی ہے۔اس میں کہا گیا ہے:“مبارک ہیں وہ لوگ جو امن قائم کرتے ہیں، کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔”ایک اور آیت میں کہا گیا ہے:“سب لوگوں کے ساتھ امن سے رہو۔”۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر امریکہ، دنیا کو مزید میزائلوں کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کو مزید رحم اور انسانیت کی ضرورت ہے۔ایران میں ماؤں کے آنسو امریکہ، پاکستان،
فلسطین یا دنیا کے کسی بھی حصے کی ماؤں کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہیں۔محترمہ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ
انسانیت ایک ہی خاندان ہے۔ اور آج ہم دنیا کے رہنماؤں سے اپیل کرتے ہیں کہ جنگ کو روکیں، سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں اور معصوم جانوں کو بچائیں۔تاریخ اس لمحے کو ایک بڑی جنگ کے آغاز کے طور پر نہیں بلکہ اس لمحے کے طور پر یاد رکھے جب انسانیت نے امن کو چنا۔ایران کے لیے امن۔امریکہ کے لیے امن اور پوری دنیا کے لیے امن۔

