اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا ہنگامی ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر کی عدلیہ میں کفایت شعاری اور توانائی بچت کے اقدامات نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں پٹرولیم سپلائی میں ممکنہ تعطل اور عالمی توانائی اخراجات میں اضافے کے پیش نظر حکمت عملی اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ عدلیہ توانائی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے قومی کوششوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرے گی۔نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنے کی منظوری دے دی۔ فیصلے کے مطابق وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس پیر سے جمعرات تک مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں گی جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو ہنگامی عدالتی اور
انتظامی امور جاری رکھنے کے لیے داخلی انتظامات کیے جائیں گے۔ضلع عدالتوں میں بھی پیر سے جمعرات تک چار روزہ ورکنگ ویک نافذ ہوگا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جمعہ اور ہفتہ کو ہائی کورٹس میں عملے کی کم سے کم حاضری رکھی جائے گی جبکہ ہائی کورٹس اور ضلع عدالتوں میں عملے کی روٹیشنل حاضری کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔کمیٹی نے وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان کے پی او ایل الائونس میں پچاس فیصد کمی جبکہ جوڈیشل افسران کے پی او ایل الائونس میں پچیس فیصد کمی کی منظوری بھی دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائی سکیورٹی زونز کے اندر نقل و حرکت کے دوران اضافی پروٹوکول اور سکیورٹی گاڑیاں تعینات نہیں کی جائیں گی تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ججز اور جوڈیشل افسران کی سکیورٹی حالات کے مطابق برقرار رکھی جائے گی۔نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے مقدمات کی سماعت میں ویڈیو لنک سہولت کے استعمال کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا اور وکلاء اور سائلین کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شرکت کی ترغیب دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کفایت شعاری اقدامات کے باوجود عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
