صہیونیوں کے اس وقت دو ہی عزائم یا ہدف ہیں ۔ ان کا پہلا ہدف ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو ہے جسے وہ تیسرا ہیکل بھی کہتے ہیں جبکہ دوسرا ہدف عظیم تر اسرائیلی ریاست کا قیام ہے ۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ بیت المقدس ہے ۔ گو کہ خود صہیونیوں کا بھی ماننا ہے کہ ہیکل سلیمانی کی اصل عمارت کا بیت المقدس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بیت المقدس کی جگہ پر نہیں بلکہ اس کے پہلو میں واقع تھا ۔ تاہم صہیونی انتہا پسند مسجد بیت المقدس کو فوری شہید کرکے اس کی جگہ پر تیسرے ہیکل کی تعمیر چاہتے ہیں ۔اسرائیلیوں کی کوشش رہی کہ بیت المقدس کی بنیادوں کو اتنا کمزور کردیا جائے کہ وہ ازخود ہی گر جائے مگر اس کوشش میں وہ اب تک ناکام رہے ہیں ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے خود ہی بیت المقدس پر کوئی میزائل گرا کر اس کا الزام ایران پر لگا دے اور پھر اس کے بعد وہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر شروع کردے ۔ ایران پر الزام لگانے کی وجہ سے اسے عیسائیوں کی اس مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس سے اسرائیل سب سے زیادہ خوفزدہ ہے ۔ اسرائیلی اور امریکی حکومتیں فالس فلیگ آپریشن میں مہارت رکھتی ہیں ۔ اس کی بہترین مثال امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر یا ٹوئن ٹاورز کی تباہی ہے ۔ اس میں کمال مہارت سے یہودی میڈیا کے ذے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ۔ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے درکار شرائط پہلے ہی پوری کی جا چکی ہیں ۔ یعنی
مکمل سرخ بچھیا کو وہ مصنوعی بریڈنگ کے ذریعے پیدا کیا جا چکا ہے اور اب ان کے پاس ایک نہیں بلکہ بیسیوں سرخ بچھیا موجود ہیں جن کی قربانی کرکے وہ پاکیزگی حاصل کرسکتے ہیں تاکہ تیسرے ہیکل کی تعمیر کا آغاز کیا جاسکے ۔ تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے درکار دیگر لوازمات جیسا کہ نقشہ ، تعمیراتی سامان وغیرہ بھی پہلے سے تیار ہیں اور اس کی مکمل ریہرسیل بھی کئی مرتبہ کی جاچکی ہیں ۔صہیونیوں کا دوسرا ہدف عظیم تر اسرائیل کا قیام ہے ۔ عظیم تر اسرائیل کے نقشے کو دیکھیں تو یہ نیل سے لے کر فرات تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس میں سعودی عرب کے علاقے بھی شامل ہیں ، مصر ، عراق ، اردن اور شام بھی ۔ یہودیوں کی آبادی اتنی نہیں ہے کہ وہ اتنے وسیع علاقے کو کنٹرول کرسکیں ۔ اس کے لیے انہیں اس علاقے میں وہی ماڈل درکار ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا تھا ۔ یعنی صرف پانچ ہزار گورے پورے برصغیر پر غداروں کے ذریعے حکومت کررہے تھے ۔ ایسے ہی ماڈل کے ذریعے عرب امارات میں اقلیت میں ہونے کے باوجود 20 فیصد مقامی
80 فیصد غیر مقامیوں کو خوب قابو رکھتے ہیں ۔جیسا کہ میں نے شروع میں ہی عرض کیا تھا کہ جنگ خود کوئی مقصد نہیں ہوتی بلکہ کسی بڑے پروجیکٹ کا ایک چھوٹا جز ہوتی ہے ۔ اب ایران پر حملہ کردیا گیا ہے ۔ ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو مکمل طور پر ختم کیا جاچکا ہے ۔ اس کی ملٹری لیڈر شپ مکمل طور پر صاف کی جاچکی ہے ۔ ایٹمی صلاحیت بھی ختم اور سائنسداں بھی ۔ مگر ایران کی ڈرون اور میزائیل کی صلاحیت کو حیرت انگیز طور پر نہیں چھیڑا گیا ہے ۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران روز ڈرونز اور میزائیلوں کی بارش کرتا ہے ۔ اس کا اصل ہدف پڑوسی عرب ممالک ہیں ۔ گو کہ گاہے گاہے اسرائیل پر بھی حملے جاری ہیں مگر اسرائیل میں ابھی تک ایک بھی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکا ہے ۔ یہ میزائل یا ڈرون شہری علاقوں میں ضرور گر رہے ہیں مگر انہوں نے کوئی ایسا قابل ذکر نقصان نہیں پہنچایا ہے جس سے اسرائیلی قیادت میں بے چینی پیدا ہو ۔ یہ میزائیل اور ڈرون حملے بیت المقدس پر فالس فلیگ آپریشن کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے کے لیے انتہائی اہم ہیں ۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے وڈیو بیان کے باوجود کہ پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملے نہیں کیے جائیں گے جب تک وہاں سے ایران پر حملے نہ کیے جائیں ، سارے ہی عرب ممالک پر مسلسل حملے جاری ہیں ۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا مسلسل جعلی خبریں چلا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ایران پر حملہ کیا ہے ۔
جس طرح سے ایرانی سیاسی قیادت کی معذرت کے باوجود ایرانی فوجی قیادت مشکوک طریقے سے عرب ممالک پر مسلسل حملے کررہی ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ ان عرب ممالک کو جنگ میں گھسیٹنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ ایرانی فوجی قیادت کی کوشش تو آذربائیجان اور ترکی کو بھی اس جنگ میں گھسیٹنے کی ہے ۔ اگر یہ تمام ممالک جنگ کی اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں تو کچھ دنوں میں ہی دفاعی طور پر اتنے کمزور ہوجائیں گے کہ اسرائیل کے کسی ایڈونچر کی صورت میں زبانی گیدڑ بھبکی بھی نہیں دے سکیں گے ۔ پاکستان کو پہلے ہی افغانستان اور بھارت کے درمیان سینڈوچ بنا دیا گیا ہے ۔ اول تو پاکستانی قیادت ٹرمپ سرکار کی انتہائی تابعدار ہے اور وہ ٹرمپ سرکار کی مرضی کے بغیر کچھ کرنا تو دور کی بات ، آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی ۔ پھر بھی عوامی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے افغان بھارت کارڈ تیار ہے ۔
اب بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے کہ پہلے مسلم ممالک کو عسکری اور مالی طور پر اتنا کمزور کیا جائے کہ وہ تیسرے ہیکل کی تعمیر کے لیے بیت المقدس کی شہادت کی صورت میں مزاحمت کرنا تو دور کی بات ، سوچ بھی نہ سکیں ۔ اس کے بعد عظیم اسرائیل کے قیام کے لیے مسلم ممالک کی زمین پر ایک ایک کرکے قبضہ کیا جائے ۔
دوسرا مرحلہ تو انتہائی آسان ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ پر امریکی حملوں کی صورت میں کسی کے منہ سے اُف تک نہیں نکلی ۔ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے مکمل طور پر قبضہ کرلیا ، کسی نے چوں تک نہیں کی ۔ غزہ پر جو خوفناک مظالم کیے گئے ، اس کے بعد بھی زبانی کلامی کے علاوہ کسی نے کچھ نہیں کیا ۔ اب ایران پر امریکی اسرائیلی حملے جاری ہیں تو بھی کسی کے منہ سے بھاپ نہیں نکلی ۔ اگر اب اسرائیل بتدریج اپنی سرحدوں کو توسیع دیتا ہے ۔ سب سے پہلے اگر وہ شام کو نگلتا ہے کہ یہی کمزور ترین ہدف ہے ، پھر دیگر ممالک کی زمینوں کو اسرائیل میں داخل کرتا ہے ، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں کیا ردعمل ہوگا ۔ یقینا وہی ردعمل ہوگا جو گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے پر ہوا تھا ۔
تو اب بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایران پر کیوں حملہ کیا گیا ۔ اسٹیج پر جو کچھ بھی ڈائریکٹر کی ہدایت کے مطابق مختلف کردار اداکاری کے جوہر دکھا رہے ہیں ، اسے چھوڑ کر ڈائریکٹر کے پاس موجود اسکرپٹ کو دیکھنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ خود سے ہی سمجھ میں آجائے گا ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
