کراچی(نمائندہ خصوصی)سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے بانی اور چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 55 روپے فی لیٹر اضافہ پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر بجلی گرانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں عبوری فیصلے ضرور کیے جاتے ہیں لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ جن کی زندگی پہلے سے مشکلات کا شکار ہو انہیں متاثر نہ کیا جائے ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ مشکل فیصلوں کا آغاز اشرافیہ سے کیا جاتا،وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں اور
مراعات روک دی جاتیں ،مہنگی اور بڑی گاڑیوں سے حکمرانوں کے سفر پر پابندی لگائی جاتی اوروی آئی پی موومنٹ کے قافلے مختصر کیے جاتے لیکن ایسا کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر عمل کیا گیا اور عوام پر بجلی گرادی گئی۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جب ایک ماہ کا ذخیرہ موجود ہے تو موجود ذخیرے کے نرخوں میں اضافہ کیوں کیا جارہا ہے؟۔حکومت نے آئی ایم ایف کی بات تو مان لی لیکن اللہ اور رسول ﷺ کی بات نہیں مانی۔ یہ فیصلہ ایک مسلمان حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہےکیونکہ حکمرانوں کو اللہ کے بندوں کا خیال رکھنا چاہیئے ناکہ آئی ایم ایف کی ناراضی کا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مشاورت سے کام لے۔جس نام پر یہ ملک بنا ہے اس کی عزت کا خیال کریں۔انہوں نے ایک حدیث مبارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرمان رسول ﷺ کے مطابق جس قوم کے حکمران اللہ کے احکامات کے خلاف فیصلے کرتے ہیں اس قوم میں غربت پھیل جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک خیر خواہی کا مہینہ ہے اور مساوات کا درس دیتا ہے۔اس ماہ کے تقدس کا خیال رکھنے کے بجائے ان اشرافیہ کا خیال رکھا جارہا ہے جو اس ملک پر قرضے کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ملک پر قرضہ کی وجہ عوام نہیں بلکہ شرافیہ ہیں۔انہوںنے حکومت سے اپیل کی کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے یا عوام کو بڑا ریلیف فراہم کرے۔
