کراچی( نمائندہ خصوصی)چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کوکب اقبال نے پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر ایک معاشی پٹرول بم قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا اچانک اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں پہلے ہی مہنگائی عروج پر ہے اور عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اس فیصلے سے خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔کوکب اقبال نے کہا کہ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، تاہم پاکستان میں عموماً کئی ہفتوں کا پٹرولیم اسٹاک موجود ہوتا ہے، اس لیے اتنے بڑے اور فوری اضافے کا جواز سمجھ سے
بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو قیمتوں کے تعین میں شفافیت اختیار کرنی چاہیے اور عوام کو اچانک ایسے معاشی جھٹکے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، بجلی کی لاگت اور مجموعی مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔چیئرمین CAP نے کہا کہ پٹرول مہنگا کرنے سے پہلے حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری افسران اور سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مفت پٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کرے کیونکہ یہ سہولت قومی خزانے پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ بدقسمتی سے حکومت غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر منتقل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کفایت شعاری کی ضرورت ہے تو اس کا آغاز حکومتی اداروں اور سرکاری اخراجات سے ہونا چاہیے، نہ کہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر مزید مالی دباؤ ڈال کر۔کوکب اقبال نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر فوری نظرثانی کی جائے اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان پٹرول کی قیمتوں میں اس اچانک اور غیر معمولی اضافے کی شدید مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں اس فیصلے کو واپس لیا
