اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر معاشی حکمتِ عملی، مالی نظم و ضبط اور آمدن میں اضافے کے باعث پاکستان نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 542 ارب روپے کا تاریخی مالیاتی سرپلس حاصل کر لیا ہے۔ایس آ ئی ایف سی حکام کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ اور اخراجات پر کنٹرول کے باعث مجموعی مالیاتی توازن میں بہتری آئی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ سرپلس ملک میں معاشی استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق
اس عرصے کے دوران مجموعی حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ٹیکس وصولیوں، پیٹرولیم لیوی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع نے کلیدی کردار ادا کیا۔ غیر ٹیکس آمدن میں اضافے نے بھی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی۔حکومتی ذرائع کے مطابق اخراجات میں کمی، سبسڈی کے بہتر انتظام اور غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پانے سے مالی نظم و ضبط کو تقویت ملی۔ اسی دوران قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور مالیاتی نظم کے باعث حکومتی مالی بچت مزید مستحکم ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی سال کی ابتدائی ششماہی میں حاصل ہونے والا سرپلس اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی اصلاحات اور محصولات میں اضافے کی حکمتِ عملی مثبت نتائج دے رہی ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں توانائی، زراعت، معدنیات اور آئی ٹی سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور آئندہ مہینوں میں مالیاتی کارکردگی میں مزید بہتری متوقع ہے۔سرکاری حکام کے مطابق مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی اقدامات کے تسلسل سے پاکستان پائیدار معاشی استحکام کی سمت پیش رفت کر رہا ہے۔
