اسلام آباد (غلام حُسین مغل) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شادی کی ایک ہائی پروفائل تقریب کے دوران پولیس کی کارروائی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق تقریب میں بڑے پیمانے پر آتش بازی جاری تھی کہ آواز سن کر تھانہ شالیمار کی گشت پر مامور پولیس گاڑی موقع پر پہنچی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود افراد نے شالیمار پولیس کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ یہ معاملہ تھانہ گولڑہ کی پولیس دیکھے گی۔بعد ازاں تھانہ گولڑہ کی پولیس موقع پر پہنچی جن میں اے ایس آئی اکیلِیم خان، کانسٹیبل ہشام اور دیگر اہلکار شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے آتش بازی کرنے والوں کو 

گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود افراد نے مزاحمت کی اور کافی دیر تک گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتے رہے۔
ذرائع کے مطابق بعد میں ایڈیشنل ایس ایچ او موقع پر پہنچے جنہوں نے مبینہ طور پر سختی کرتے ہوئے چار افراد کو زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور انہیں تھانے منتقل کیا گیا۔ پولیس نے بڑی مقدار میں آتش بازی کا سامان بھی قبضے میں لے لیا جس کی مالیت تقریباً 20 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔تاہم عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کچھ ہی دیر بعد نہ صرف گرفتار افراد کو رہا کر دیا گیا بلکہ ضبط شدہ سامان بھی واپس کر دیا گیا۔ بعض ذرائع یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ مزاحمت کے بعد معاملہ مبینہ طور پر کسی مالی لین دین کے ذریعے نمٹایا گیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی تو ملزمان کو کیوں چھوڑا گیا اور اگر کوئی خلاف ورزی نہیں تھی تو گرفتاری اور سامان ضبط کرنے کی کارروائی کیوں کی گئی۔ ایسے واقعات پولیس کے طریقہ کار اور قانون کی یکساں عملداری پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
