اسلام آباد(کامرس رپورٹر) نئے سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کے بعد حکومت نے بجلی کے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے بھی اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو جمع کرائی گئی نئی ٹیرف درخواست میں پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی زیر صدارت بجلی کے نئے ٹیرف سے متعلق سماعت کے دوران پاور ڈویژن نے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں کیٹیگریز کے صارفین کے لیے فکسڈ چارجز متعارف کرانے کی سفارش کی، جبکہ کراس سبسڈی میں کمی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔نیپرا کو دی گئی بریفنگ
میں پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (PPMC) کے حکام نے بتایا کہ اس وقت فکسڈ چارجز صرف ماہانہ 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو ہیں، تاہم اب اس دائرہ کار کو بڑھانے کی تجویز دی جا رہی ہے۔تجویز کے مطابق ماہانہ 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارج عائد کیا جائے گا۔حکام کا مؤقف ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے رجحان کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث نظام کو برقرار رکھنے کے لیے فکسڈ چارجز ناگزیر ہو چکے ہیں۔توانائی ماہرین کے مطابق اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو کم بجلی استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کے ماہانہ بلوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں آئے عوام کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
