لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایپسٹین متاثرین سے معافی مانگ لی برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق سر کیئر اسٹارمر نے جمعرات کو اس بنا پر جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے معافی مانگ لی کہ انھوں نے پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں سفیر مقرر کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ ان کا جنسی مجرم ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلق رہا۔روئٹرز کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعرات کے روز اپنے سابق امریکی سفیر پیٹر مینڈلسن پر شدید تنقید کی۔ انھوں نے برطانوی سیاست کے مختلف حلقوں میں پائے جانے والے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انھیں افسوس ہے کہ انھوں نے مینڈلسن کو سفیر مقرر کرنے سے پہلے اس کی ’’باتوں پر یقین‘‘ کر لیا تھا، جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ کیئر اسٹارمر اس
حوالے سے شدید دباؤ میں ہیں کیوں کہ دسمبر 2024 میں انھوں نے مینڈلسن کو واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا تھا، حالاں کہ اس وقت جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ مینڈلسن کے تعلقات پہلے ہی معلوم تھے۔ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کی گئی فائلوں میں ایسی ای میلز شامل تھیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تعلقات کس قدر گہرے اور تاریک تھے۔ ان دستاویزات سے یہ بھی عندیہ ملا کہ مینڈلسن نے ایپسٹین کو سرکاری دستاویزات لیک کیں اور یہ کہ ایپسٹین نے مینڈلسن یا اُس کے اُس وقت کے پارٹنر (جو اب اس کے شوہر ہیں) کو کی گئی ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی رکھا ہوا تھا۔ جنوبی انگلینڈ میں ایک خطاب کے آغاز پر اسٹارمر نے کہا کافی عرصے سے یہ بات عوامی طور پر معلوم تھی کہ مینڈلسن، ایپسٹین کو جانتا تھا، لیکن ہم میں سے کسی کو بھی اس تعلق کی گہرائی اور تاریکی کا اندازہ نہیں تھا۔واضح رہے کہ مینڈلسن، جو کہ لیبر پارٹی کے دورِ حکومت میں حکومتی وزیر رہ چکے ہیں، نے ایپسٹین اسکینڈل کے بعد منگل کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا، ہاؤس آف لارڈز، کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور اب وہ سرکاری عہدے کے دوران مبینہ بدعنوانی کے الزام میں پولیس کی تفتیش کی زد میں ہیں۔

