کراچی( کامرس رپورٹر)نیسلے پاکستان کوچوتھی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس میں عوام، کرہ ارض اور کاروبار کے لیے مشترکہ قدرکی تخلیق کرنے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی اور کاربن کے صفر اخراج،ری جنریٹو ایگریکلچر اور ری سائیکلنگ پر مبنی نظام سے متعلق اقدامات کیلئے مسلسل دوسری بارکلائمیٹ چیمپئن ایوارڈ سے نوازا گیا۔چوتھی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس اور کلائمیٹ ایکسیلنس ایوارڈز کے دوسرے ایڈیشن کی میزبانی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( اوآئی سی سی آئی) نے کی جو 30 ممالک اور 14 شعبوں سے تعلق رکھنے والی 200 سے زائد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ ایوارڈز کیلئے اس سال 80سے زائد انٹریز موصول ہوئیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر موسمیاتی
تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے ملک کی موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے پائیدار ترقی کی طرف گامزن کرنے کیلئے سرمایہ کو متحرک کرنے اور نئی نسل پر مبنی جدید حل کے نفاذ پر زور دیا ۔انہوں نے کہا ”ہمیں پرعزم اور خواب دیکھنے والے ان نوجوانوں پر اعتماد کرتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی ہوگی کیونکہ نوجوان نسل پاکستان کا مستقبل ہے اور یہی ہمیں ماحولیاتی مسائل سے نکالیں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہا ” او آئی سی سی آئی کی چوتھی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات اور پائیدار حل کے حصول میں نجی شعبہ کے کردار کا نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں حکومتی کردار اور کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 1.3 ارب ڈالر کی ماحولیاتی فنانسنگ تک رسائی حاصل ہے جو اس سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔جیسن آوانسینا، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیسلے پاکستان نے کہا ” پاکستان کلائمیٹ کانفرنس کے ذریعے او آئی سی سی آئی نے موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے زیادہ پائیدار معیشت کی طرف پاکستان کی منتقلی میں معاون قابل عمل سفارشات پیش کی ہیں۔قبل ازیں ڈیووس میں نیسلے نے پائیداری اور گرین منصوبوں، زرعی خدمات کی تبدیلی، آٹومیشن اور ڈیجٹائزیشن میں معاونت کیلئے پاکستان میں 60ملین ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔یہ اعلان 2023 سے 2025 کے دوران کی گئی 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے علاوہ ہے جس کے بعد چھ سال میں مجموعی مجوزہ سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔یہ سرمایہ کاری پاکستان کے ساتھ نیسلے کے طویل المدتی عزم اور اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔”اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ وقار احمد، ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبیلیٹی، نیسلے پاکستان نے کہا ” ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے کوشاں ہیں اور ہمارے کاروبار میں پائیداری لازمی جزو ہے۔ ہماری کوششیں مشترکہ اقدار کی تخلیق کیلئے ہمارے عزم کو واضح کرتی ہیں کیونکہ ہم صاف ماحول اور زیادہ پائیدار مستقبل کیلئے نمایاں اقدامات اٹھا رہے ہیں۔نیسلے نیٹ زیرو کے حوالے سے اپنے عالمی وعدوں کے تحت 2030 تک گرین ہائوس گیس کے اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف رکھتا ہے اور 2050 تک نیٹ زیرو حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔نیسلے پاکستان نے2018 کے بیس لائن کے مقابلے میں گرین ہائوس گیس کے اخراج میں 50فیصد سے زیادہ کمی بھی حاصل کی ہے جس میں 9.6 میگاواٹ سولر پاور اور کبیروالہ میں 20 ٹن فی گھنٹہ بایوماس بوائلر کی بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔نیسلے نے ورجن پلاسٹک میں 33 فیصد کمی کرتے ہوئے دوبارہ ری سائیکل کے قابل لچک دار پیکجنگ متعارف کروائی۔ کمپنی کلین گلگت بلتستان پروجیکٹ کے ذریعے 11,000 ٹن پیکجنگ کچرے کو اکٹھا کرنے اور اسے ری سائیکلنگ میں مدد کررہی ہے جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف ایس ڈی جیز 13اور15 کے مطابق ہے۔

