کراچی ( نمائندہ خصوصی)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عوامی تھیٹر فیسٹیول 16ویں روز معروف لکھاری بشیر سدوزئی کا اسٹیج ڈرامہ ”دخترِ کشمیر“ پیش کیاگیا جس کے ہدایت کار آدم راٹھور تھے، ڈرامے میں شانزے، وردا، اجنبی، سپنا غزل، ندیم ملک، شہزاد ملک، الیاس ندیم، شریف بلوچ، عبداللہ لالہ، کمال ادریس، منظور ملک، مہک نور، شاہینہ اور جاوید قریشی نے اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے حاضرین کے دل جیت لیے۔ ”دختر کشمیر“ محض ایک اسٹیج پرفارمنس نہیں بلکہ تاریخ کی وہ زندہ گواہی تھی جسے برسوں سے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، بشیر سدوزئی نے عوامی تھیٹر فیسٹیول کے دوران یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ” دختر کشمیر“ پیش کر کے جموں و کشمیر کے عوام کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اور بالخصوص پاکستان کے فن کار، آزادی کی اس جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیںیہ کاوش محض ادبی یا تفریحی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ایک واضح فکری اور سیاسی مؤقف رکھتی ہے اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا مو¿ثر ذریعہ ہے۔ ”دخترِ کشمیر” دراصل حقِ خودارادیت کی اس طویل جدوجہد کی کہانی تھی جس کی جڑیں تقسیمِ ہند سے بھی پہلے کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ اس ڈرامے میں یہ پیغام نمایاں تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے جتنی قربانیاں دی ہیں، شاید اس سے بھی زیادہ قربانیاں دینا پڑیں، مگر اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ تھیٹر میں شیخ عبداللہ علی گیلانی، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی کے سیاسی اور تحریکی کرداروں کے ساتھ ساتھ کشمیری پنڈتوں کے حوالے سے مودی سرکار کی سازشوں کو بھی منظرِ عام پر لایا گیا ۔ڈرامے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے مظالم، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، پیلٹ گنوں سے چھلنی آنکھوں اور ماو¿ں کی نہ ختم ہونے والی آہوں کو دکھایا گیا۔ تاہم یہ داستان صرف ظلم کی فہرست نہیں بلکہ مزاحمت، حوصلے اور امید کی علامت بھی تھا، وہ امید جو آج بھی ہر کشمیری گھر میں سانس لیتی ہے، تھیٹر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ، ”دخترِ کشمیر“ میں عورت محض ایک کردار نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ بیٹی، وہ ماں، وہ بہن، جس کے وجود پر سب سے پہلے اور سب سے گہرا وار کیا گیا۔ ڈرامے میں کشمیری عورت کو مظلوم ہونے کے ساتھ ساتھ مزاحمت کی سب سے مضبوط علامت کے طور پر دکھایا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب کشمیر عالمی میڈیا میں محض ایک ”تنازع“ بن کر رہ گیا ہے، یہ تھیٹر انسانی چہروں کو واپس لانے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ یہ یاد دہانی ہے کہ کشمیر نقشے پر کھینچی گئی کوئی لکیر نہیں بلکہ زندہ انسانوں کی سرزمین ہے، جن کے خواب، خوف اور امیدیں ہیں۔”دخترِ کشمیر“ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ جب فن سچ کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو وہ سب سے مؤثر احتجاج بن جاتا ہے۔ اوپن ایئر ایئر شائقین سے بھرا ہوا تھا جبکہ دیکھنے والوں نے ”دختر کشمیر“ کی کہانی کو بہت پسند کیا اور تالیاں بجا کر فنکاروں کی شاندار اداکار پر خوب داد دی۔
