اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو فطری اور پائیدار تعلقات کے طور پر دیکھتا ہے جس کی جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے سے وابستہ ہیں، پاکستان ازبکستان سے روابط، تجارت اور عوامی سطح پر روابط کے شعبوں میں قریبی تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ایوان صدر میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ صدر شوکت مرزایوف کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ دورہ نتیجہ خیز اور مستقبل کی جانب پیش قدمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے صدر شوکت مرزایوف کو ایک دور اندیش رہنما
قرار دیا جن کی قیادت میں ازبکستان ایک جدید اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرا ہے اور جن کی خدمات کو علاقائی و بین الاقوامی امن کے فروغ میں وسیع پیمانے پر سراہا جاتا ہے۔انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کو قریب لانے میں صدر مرزایوف کے ذاتی کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان فطری شراکت دار ہیں جن کے مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، روابط، دفاع، سلامتی، ثقافت اور ورثے کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ کےلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ صدر مملکت نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی روابط کو عوام کو قریب لانے کا ذریعہ قرار دیا اور ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے منصوبے سمیت علاقائی روابط کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا اور باقی ماندہ چیلنجز سے نمٹنے کےلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کیا۔صدر آصف علی زرداری نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات کی حقیقی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانا ضروری ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عوامی سطح پر روابط، سیاحت کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کا ذکر کیا جو دونوں ممالک کے تاریخی اور روحانی روابط کی عکاسی کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہائو کو سہارا دینے کےلئے مالیاتی اداروں بالخصوص بینکوں کے درمیان تعاون اور سہولت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر شوکت مرزایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مختلف سطحوں پر دوطرفہ روابط میں مسلسل اضافے، تجارت کے فروغ، مشترکہ منصوبوں میں اضافے اور معیشت کے ترجیحی شعبوں میں تعاون کے منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس ضمن میں اپنے متعلقہ وزیر کو پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ ازبکستان کے صدرنے سیاسی مکالمے کو مزید مضبوط بنانے، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے فروغ اور کاروباری روابط کو مزید فعال بنانے کے ذریعے عملی تعاون میں وسعت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ازبکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو اضافی براہ راست پروازیں شروع کی جائیں گی جس سے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد چھ ہوجائے گی تاکہ عوامی روابط، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہولت فراہم کی جاسکے۔ دونوں صدور نے ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں امن، استحکام اور سلامتی سے متعلق امور شامل تھے۔ دونوں صدور کے درمیان پہلے ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں اہم دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے وفود کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے۔وفد کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، صنعت و پیداوار کےلئے معاون خصوصی ہارون اختر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر اور سیکرٹری خارجہ نے شرکت کی۔ازبک وفد میں صدر کے مشیر عبدالعزیز کاملوف، وزیر دفاع شوخرات خالمحمدوف، وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لذیذ قدرتوف، وزیر ٹرانسپورٹ الخام مخکموف، وزیر معدنیات و جیولوجی بابر اسلاموف، وزیر زراعت ابراہیم عبدالرحمونوف، وزیر ثقافت اوزودبیک نذربیکوف، نائب وزیر خارجہ باخروم علیوف اور پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علیشر توختائیف شامل تھے۔بعد ازاں ایک خصوصی پروقار تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں صدر شوکت مرزایوف کو نشان پاکستان کے اعزاز سے نوازا۔ تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے ارکان، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، غیر ملکی سفیروں اور پارلیمنٹرینز نے شرکت کی۔ تقریب کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

