اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم بلوچستان میں دہشت گردی پر سوگوار ہےاور اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان نے دہشت گرد حملہ کیا، ہماری بہادر افواج نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا، جوابی کارروائی میں 180 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ہمارے 17 جوان اور 31 شہری شہید ہوئے جن میں پانچ خواتین و بچے بھی شامل ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے والے انسان نہیں، قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور انکے بچوں کی کفالت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد ہمارا مشرقی ہمسایہ اور خوارج ملکر
ملک کی ترقی و خوشحالی کے راستے میں کانٹے بچھانا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے، دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ کابینہ اجلاس میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی۔وزیر اعظم نے کہا کہ مزدوروں اور بچوں کے المناک قتل پر قوم افسردہ ہے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ ایران کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے ایران کے لئے بھائیوں جیسا کردار ادا کیا، قطر، ترکیہ، مصر اور دیگر ملکوں نے بھی ایران کے معاملے پر کوششیں کی ہیں، کوشش ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے پائیں اور دیرپا امن ہو۔وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کو یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ساتھ ہے، یوم یکجہتی پر نہتے کشمیریوں کے ساتھ والہانہ وابستگی کا اظہار کیا جائے گا اور وہ خود آزاد کشمیر جاکر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کریں گے ۔ وزیر اعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ ملاقات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا، ملکی مفاد سب سے مقدم ہے، سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مسائل پر قابو پانا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010 سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لئے خیبرپختونخوا حکومت کو 800 ارب دیئے گئے، خیبر پختونخوا کے غیور اور بہادر
شہریوں نے پاکستان کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن صوبے میں وفاقی حکومت کی طرف سے اضافی رقم کی فراہمی کے باوجود ابھی تک سیف سٹی کا منصوبہ نہیں بن سکا۔ اگر کہیں ادائیگیوں میں تاخیر ہوئی ہے تو فوری ادائیگی ہوگی، وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت سے نہ کھیلنے سے متعلق واضح موقف اختیار کیا ہے، کھیل میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہئے، بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے وفاقی کابینہ کو صدر قازقستان کے دورے اور انکے ساتھ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی، صدر قاسم جومارت توکایووف نے پاکستان کے ساتھ دوستی اور مضبوط تعلقات کا اظہار کیا دونوں ممالک نے تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے کے لئے 5 سالہ روڈ میپ مرتب کیا جائے گا۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ورکنگ گروپ میں پاکستان کی قیادت کریں گے جبکہ قازقستان کے نائب وزیر اعظم قازقستان کی طرف سے نمائندگی کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ازبکستان کے صدر بھی کل جمعرات کو پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ازبکستان کے صدر کا دورہ برادرانہ تعلقات میں نئے باب کا اضافہ ہوگا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدر آزاد کشمیر مرحوم بیرسٹر سلطان محمود اور راشد محمود لنگڑیال کے بھائی کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی۔
