بدین ( نمائندہ خصوصی)سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام سے وابستہ ریٹائرڈ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پنشن سمیت دیگر قانونی مراعات سے محروم رکھنے کے خلاف آل لیڈی ہیلتھ ورکرز یونین کی جانب سے ٹریژری آفیسر بدین اور اس کے عملے کے خلاف ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس بدین کے سامنے شدید احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی اور ٹریژری آفس بدین کی ناانصافی کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر یونین کی ریجنل نائب صدر راشدہ نظامانی نے بدین پریس کلب کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا خواب تھا، جس کے تحت لیڈی ہیلتھ ورکرز سخت موسمی حالات، شدید گرمی، سردی اور خطرات کے باوجود گھر گھر جا کر ماں اور بچے کی صحت کے لیے بنیادی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کا بڑا حصہ قوم کی خدمت میں گزارنے کے باوجود جب یہ ملازمین ریٹائر ہوتی ہیں تو انہیں پنشن جیسے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک اور سراسر ظلم ہے۔ راشدہ
نظامانی نے مزید کہا کہ بدین کے ٹریژری آفیسر اور عملہ مختلف بے بنیاد اور غیر قانونی جواز بنا کر ریٹائرڈ ملازمین کو ذہنی اذیت دے رہا ہے، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے واضح فیصلے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پنشن کا حق دار قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے دیگر اضلاع میں اس نوعیت کا کوئی مسئلہ موجود نہیں، صرف بدین میں ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، جو کھلی ناانصافی ہے۔ اس موقع پر یونین رہنما سمینہ تالپر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز محض ملازم نہیں بلکہ معاشرے کی خاموش ہیرو ہیں، جو پولیو جیسی خطرناک بیماری کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر صحت، سیکریٹری فنانس، اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، کمشنر حیدرآباد ڈویژن سمیت بدین ضلع کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس سنگین مسلے کا نوٹس لیں اور ریٹائرڈ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ان کے جائز حقوق دلوائیں۔ رشیدہ نظامانی اور سمینہ تالپر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ناانصافی کا ازالہ نہ کیا گیا تو پولیو مہم کے بعد سینکڑوں لیڈی ہیلتھ ورکرز ٹریژری آفس بدین کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گی، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اب مزید خاموش نہیں رہیں گی اور اپنے حقوق کے لیے ہر قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گی۔ احتجاج میں شاہدہ ناتھو، رضیہ نیاز، توقیر فاطمہ، فخرالنساء، زبیدہ خانم، عابدہ نظامانی، نظیراں قمرانی ، زبیدہ آرائیں سمیت دیگر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے شرکت کی .

