کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی میں پولیس کے روپ میں ملبوس نامعلوم اغواء کاروں کی ایک اور سنگین واردات سامنے آ گئی، جہاں شہر قائد کے ایک تاجر کو اغواء کرکے ایک کروڑ 86 لاکھ روپے سے زائد رقم اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق واردات کا نشانہ بننے والے شہری محمد ضمیر بلدیہ ٹاؤن مدینہ کالونی کے رہائشی ہیں، جو سونے کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں جبکہ آن لائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ اکیڈمی بھی چلاتے ہیں۔ متاثرہ شہری کی مدعیت میں تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔متنِ ایف آئی آر کے مطابق محمد ضمیر 7 جنوری کو رات تقریباً ایک بجے ڈیفنس میں واقع اپنے ہوٹل
سے نکلے۔ ہائپر اسٹار ڈالمن مال کراس کرنے کے بعد کالے رنگ کی ویگو گاڑی میں سوار افراد نے ان کی گاڑی کو ہٹ کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران کالے ویگو سے ایک شخص نے کارڈ دکھایا، جس پر کچھ تحریر تھی تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کارڈ اصلی تھا یا جعلی۔مدعی کے مطابق تین مسلح افراد ان کی گاڑی کے پاس آئے، شیشہ نیچے کروایا، تشدد کیا اور زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا، جبکہ ایک اور شخص ان کی گاڑی میں سوار ہو گیا۔ اغواء کاروں نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر گالم گلوچ کی اور دھمکی دی کہ ان پر کیس ہے، تعاون کرنے کی صورت میں جلد چھوڑنے کا کہا گیا۔اغواء کاروں نے متاثرہ شہری کے موبائل فون کا پاس ورڈ حاصل کرکے 28 لاکھ روپے آن لائن ٹرانسفر کیے، بعد ازاں دوسرے موبائل فون اور لائسنس یافتہ پستول گاڑی سے لے کر مزید 49 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔ اس دوران گھر والوں کی کالز پر متاثرہ شہری کو نارمل گفتگو کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔مزید بتایا گیا کہ صبح کے وقت کیش کا مطالبہ کیا گیا اور متاثرہ شہری کے منیجر اسد خان کے ذریعے اس کی سالی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کروا کر 50 لاکھ روپے کیش بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں وصول کیے گئے۔ بعد ازاں شہزادی نامی خاتون کے ذریعے چاروں اے ٹی ایم کارڈز استعمال کرتے ہوئے مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم سے 25 لاکھ روپے نکلوائے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق رات 12 بجے کے بعد مزید 30 لاکھ روپے اے ٹی ایم کے ذریعے جبکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 4 لاکھ روپے بھی ٹرانسفر کیے گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد اغواء کاروں نے متاثرہ شہری کو دھمکیاں دیتے ہوئے اتار دیا اور ایک موبائل فون، پرس، چاروں اے ٹی ایم کارڈز اور گاڑی کی چابی واپس کرکے سیدھا جانے کا کہا۔متاثرہ شہری کے مطابق دس منٹ پیدل چلنے کے بعد ان کی گاڑی رات دو بجے ہائپر اسٹار کے قریب کھڑی ملی، جس میں بیٹھ کر وہ گھر پہنچے۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ شہر میں پولیس کے روپ میں ہونے والی وارداتوں پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی
