مری/راولپنڈی۔( نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے بتایا ہے کہ ملکہ کوہسار مری میں برف باری کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اب تک مختلف مقامات پر 4 انچ تک برف ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ برف باری کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحوں کی بڑی تعداد نے مری کا رخ کیا ہے جس کے باعث جمعرات کی رات 09:20 بجے تک ضلعی داخلی راستوں سے 10,741 گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں جبکہ 9,544 گاڑیاں شہر سے واپس روانہ ہوئیں، اس وقت ضلع کی حدود میں
نیٹ 1,197 گاڑیاں موجود ہیں۔ اسی طرح شہر کے اندرونی حصوں میں 9,551 گاڑیاں داخل ہوئیں اور 7,469 خارج ہوئیں جس کے بعد شہر کے اندر گاڑیوں کی مجموعی تعداد 2,082 ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا برف باری کے دوران جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور ٹریفک کی روانی کا جائزہ لینے کے لیے خود فیلڈ میں موجود ہیں۔ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں
کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 21 جنوری کی رات سے اب تک مجموعی طور پر 11,339 گاڑیاں ضلع مری میں داخل ہوئیں اور 10,088 گاڑیاں خارج ہوئیں جبکہ اس وقت مری کے گنجان علاقوں میں گاڑیوں کی نیٹ تعداد 2,278 ہے۔ڈی پی او مری نے واضح کیا کہ مری پولیس، ٹریفک اہلکار اور ریسکیو 1122 کے دستے تمام اہم شاہراہوں اور جگہ جگہ پوائنٹس پر تعینات ہیں جو شدید موسم میں سیاحوں کی راہنمائی اور امداد کے لیے چوبیس گھنٹے مصروف عمل ہیں۔سیاحوں کے لیے ہدایات جاری کرتے
ہوئے ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے کہا کہ برفانی سڑکوں پر گاڑیوں کی پھسلن سے بچنے کے لیے سنو چین کا استعمال ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ہیٹر چلانے کی ضرورت کے پیش نظر گاڑی میں ایندھن (فیول) کی مقدار مکمل رکھی جائے۔انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ شدید برفانی طوفان کی پیشگوئی کے باعث رات کے وقت اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نیز گاڑیوں کو مرکزی شاہراہوں یا ڈھلوانوں پر ہرگز پارک نہ کریں تاکہ برف ہٹانے والی مشینری کے کام میں رکاوٹ
پیدا نہ ہو۔ڈی پی او مری نے کہا کہ تمام داخلی راستوں اور چیک پوسٹس پر پولیس کا عملہ سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ انہیں مسلسل موسمی حالات اور ٹریفک ایڈوائزری کے بارے میں آگاہ کر رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت دی کہ کسی بھی مشکل، گاڑی خراب ہونے یا ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 یا ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

