اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عشرت فاطمہ پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں ایک نمایاں اور معتبر شناخت رکھتی ہیں۔ جمعرات کو یہاں سینئر براڈ کاسٹر عشرت فاطمہ کے گھر آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیوز کاسٹنگ اور براڈ کاسٹنگ کے شعبے میں عشرت فاطمہ کی خدمات ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملک کا ہر طبقہ ہر عمر کا فرد انہیں جانتا اور پہچانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عشرت فاطمہ کا 45 سال پر محیط شاندار کیریئر ہے جس کے دوران انہوں نے پوری پیشہ ورانہ دیانتداری کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔انہوں نے کہا کہ عشرت فاطمہ جب ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کر رہی تھیں تو ان سے درخواست کی کہ وہ پی ٹی وی کی پہچان ہیں، اگرچہ انہوں نے 10 سال پہلے پاکستان ٹیلی ویژن سے علیحدگی اختیار کی تھی تاہم اب ان سے درخواست کی ہے کہ وہ بطور مینٹور پی ٹی وی آئیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ریڈیو پاکستان چھوڑنا ان کا فیصلہ تھا جس کا ہم احترام کرتے ہیں تاہم پاکستان ٹیلی ویژن میں ان کی بطور مینٹور شمولیت سے ادارے کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹرز
کی تربیت، اردو زبان کے فروغ اور دباؤ کے حالات میں خبریں پڑھنے کے تقاضوں سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں بالخصوص ہنگامی اور قدرتی آفات جیسے حالات میں ان کا تجربہ نئی نسل کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عشرت فاطمہ نے زندگی میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، ان کے آنے سے ہمیں بھی حوصلہ ملے گا اور پی ٹی وی کو تقویت ملے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق یا سیاسی جھکاؤ نہیں رہا، انہوں نے پوری زندگی پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت گذاری، ان کی واپسی سے نوجوان اینکرز اور نیوز کاسٹرز کے حوصلے بلند ہوں گے اور وہ بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر عشرت فاطمہ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جس عزت اور اعتماد سے نوازا گیا اس سے ان کا حوصلہ مزید بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوز ریڈنگ ان کی زندگی کا حصہ ہے اور وہ اس شعبے سے بے پناہ محبت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے تجربے سے کوئی اور آسانی کے ساتھ سیکھ سکتا ہے تو اس سے انہیں دلی خوشی ہوگی۔عشرت فاطمہ نے کہا کہ باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کے لئے صرف حوصلہ افزائی، عزت اور کام کرنے کا ماحول درکار ہوتا ہے محض مالی وسائل ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ عوام کی جانب سے بے پناہ محبت ملی اور وہ کوشش کریں گی کہ جو کچھ وہ کر سکتی ہیں، اپنے ادارے، اپنے لوگوں اور اس شعبے کے لئے ضرور کریں۔ اس موقع پر وفاقی وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز وڑائچ، سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل، پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن اور دیگر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج مجھے آپا عشرت فاطمہ کے گھر حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا، اس موقع پر میں نے ان سے پاکستان ٹیلی ویژن میں نئی نسل کے نیوز کاسٹرز کے تلفظ اور ان کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنے کی گزارش کی جس پر انہوں نے فراخ دلی سے آمادگی کا اظہار فرمایا۔میں تہہ دل سے آپا کا مشکور ہوں۔ میں نے ان سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن اور مجموعی طور پر براڈکاسٹنگ سروسز میں جن سینیئر شخصیات نے اپنی قیمتی خدمات سرانجام دی ہیں نہ صرف ان کی بھرپور دیکھ بھال کی جائے گی بلکہ ان کے تجربے اور خدمات کی انشاء اللہ حقیقی قدر بھی کی جائے گی۔ ریڈیو پاکستان چھوڑنا ان کا اپنا فیصلہ تھا جس کو ہم نے قبول کیا اور پی ٹی وی میں ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
