اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) :گنے کےجاری کرشنگ سیزن کے دوران مقامی شوگر انڈسٹری کی پیداوار میں 10.93 فیصد جبکہ گنے کی کرشنگ میں 18.22 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ شوگر انڈسٹری کے تازہ ترین اعدادوشمار کےمطابق گنے کی کرشنگ کے جاری سیزن کے دوران 31 دسمبر 2025 تک پنجاب ، سند ھ اور خیبر پختونخوا میں قائم چینی بنانےوالی صنعتوں نے 20.84 ملین ٹن گنے کی کرشنگ کی ہے جبکہ گذشتہ سیزن میں 31 دسمبر 2024 تک 17.62 ملین ٹن گنا کرش کیا گیا تھا ۔اس طرح گذشتہ کرشنگ سیزن کے مقابلہ میں رواں کرشنگ سیزن کے دوران ملک بھر میں شوگر انڈسٹری کی کرشنگ میں 3.22ملین ٹن یعنی
18.22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ،جس کے نتیجہ میں چینی کی مقامی پیداوار میں 10.93 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی ہے ۔واضح رہےکہ گذشتہ کرشنگ سیزن میں 31 دسمبر 2024 تک چینی کی پیداوار کا حجم 1.74 ملین ٹن رہا تھا جبکہ جاری کرشنگ سیزن میں 31 دسمبر 2025 تک چینی کی پیداوار 1.93 ملین ٹن تک بڑھ گئی ۔ اس طرح گذشتہ سیزن کےمقابلہ میں رواں کرشنگ سیزن کے دوران چینی کی مقامی پیداوار میں 0.19 ملین ٹن یعنی 10.93 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کےمطابق گذشتہ سال کےمقابلہ میں رواں سال گنے سے چینی کے حصول کی شرح میں بھی 3.26 فیصدکا اضافہ ہوا ہےاور گنےسے چینی کے حصول کی شرح 9.2 فیصد کے مقابلہ میں 9.5 فیصد تک بڑھی ہے ۔ چینی بنانے ملکی صنعت کے اعدادوشمار کے مطابق جاری کرشنگ سیزن میں پنجاب میں قائم چینی کی صنعتوں نے 15.06 ملین ٹن گنے کی کرشنگ کی ہے جبکہ گذشتہ سال اسی عرصہ کے دوران 13.92 ملین ٹن گنا کرش کیا گیا تھا۔ اس طرح گذشتہ سیزن کے مقابلہ میں رواں کرشنگ سیزن کے دوران 31 دسمبر 2025 تک پنجاب میں کام کرنے والی شوگر انڈسٹری کی کرشنگ میں 1.14 فیصد یعنی 8.18 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی
گئی ہے، جس کے نتیجہ میں پنجاب میں چینی کی پیداوار بھی 12.39 کے اضافہ سے 1.21 ملین ٹن کے مقابلہ میں 1.36 ملین ٹن تک بڑھی ہے۔دوسری جانب پنجاب میں گنے سے چینی کے حصول کی شرح بھی 9.01 فیصد کے مقابلہ میں 9.43 فیصد تک بڑھ گئی ۔ مزیدبرآں حالیہ کرشنگ سیزن کے دوران سندھ کی صنعتوں میں 4.65ملین ٹن گنے کی کرشنگ کی گئی ہے جس سے 0.43 ملین ٹن چینی کی پیداوار حاصل ہوئی ہے جبکہ صوبہ میں گنے سے چینی کے حصول کی شرح 9.19 فیصد کے مقابلہ میں 9.76 فیصدکا نمایاں ہوا ہے ۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی رواں سیزن کے دوران گنے سے چینی کے حصول کی شرح میں 2.09 کا نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا اور یہ شرح 8.08 فیصد کے مقابلہ میں بڑھ کر 10.17 فیصد تک پہنچ گئی ۔
