• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

(مادورو کا اغوا( حصہ اول

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 5, 2026
in پاکستان
0
(مادورو کا اغوا( حصہ اول
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار کے شروع ہوتے ہی دنیا اتھل پتھل کا شکار ہے ۔ یہ اندازہ تو سب کو تھا کہ ٹرمپ کا انداز جارحانہ ہے ۔ تاہم ابتدائی اندازہ یہی تھا کہ اس کے اثرات امریکا تک ہی ہوں گے مگر جس طرح سے ٹرمپ نے پوری دنیا میں جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہے ۔ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کا اندازہ اس کو تھا ۔ جو کچھ ٹرمپ نے غزہ میں کیا ، اسے یہ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ یہودی لابی امریکا میں بہت مضبوط ہے ۔ مگر ٹیرف وار کے نام پر جو کچھ ہوا، اس کے بعد دنیا میں جو معاشی سونامی آیا ، امریکا خود بھی اس کا شکار ہوا۔ وینزویلا میں جس طرح سے وہاں کے وزیر اعظم مادورو کو اغوا کرکے نیویارک پہنچایا گیا ، اس نے تو انتہا ہی کردی ۔ دنیا بھر میں آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔ آئیے اس سوال کا جواب بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب اس سوال کو جواب ہم تلاش کرلیں گے تو ہمیں پاکستان میں Gen Z کے اٹھائے جانے والے طوفان کو بھی سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی ۔

دنیا میں موجودہ طوفان کے کھُرے ہمیں ٹرمپ کی انتخابی مہم سے اٹھانے پڑیں گے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسپیس ایکس کا مالک ایلون مسک ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہے ۔ یہ صرف ایلون مسک نہیں تھا بلکہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا نمائندہ تھا ۔ امریکا میں انتخاب لڑ نا مالی طور پر ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس کے لیے ہر سیاسی جماعت چندہ جمع کرنے اور لابی کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بناتی ہے جنہیں Political Action Committees یا PAC کہا جاتا ہے ۔ کہنے میں یہ PAC آزاد ہوتی ہیں اور سیاسی جماعت کا ان پر کنٹرول نہیں ہوتا ۔ تو ٹرمپ کی چندہ جمع کرنے والی PAC کی قیادت ایلون مسک کررہا تھا اور بے دریغ پیسے خرچ کررہا تھا ۔ جو فرد بھی امریکا کے انتخابات سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ، وہ جانتا ہے کہ امریکی انتخابات میں swinging states کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے ووٹ فیصلہ کن مانے جاتے ہیں ۔ ان swinging states میں ووٹوں کی خریداری کے لیے ایلون مسک نے منڈی لگائی ہوئی تھی کہ جو بھی ریپبلکن کو وو ٹ دے گا ، اسے 34 ڈالر دیے جائیں گے ۔ آخر میں یہ بولی سو ڈالر فی ووٹر تک پہنچ گئی تھی ۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسا کہ پاکستان میں اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر دیکھی جاتی ہے ۔ عرف عام میں اسے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے ۔ جب امریکا میں اس پر آواز اٹھائی گئی کہ یہ تو دھاندلی کے مترادف ہے تو کہا گیا کہ یہ تو ایلون مسک کا ذاتی فعل ہے اور ریپلکن کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔تو جناب جب ایلون مسک ڈالر لٹا رہے تھے تو یہ صرف ان کا پیسہ نہیں تھا بلکہ یہ PAC کا پیسہ تھا جس میں سارے ہی وہ لوگ شامل تھے جن کے کاروباری مفادات ہیں ۔ ان میں آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے بھی اور دفاعی ساز و سامان بنانے والی انڈسٹری کے لوگ بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ جب یہ سب لوگ دل کھول کر ٹرمپ پر سرمایہ کاری کررہے تھے اور ہر صورت میں ٹرمپ کی فتح بھی چاہتے تھے تو یقینا ان کے اپنے مقاصد بھی تھے ۔تو جناب ان سب کی سرمایہ کاری کامیاب ہوگئی اور ٹرمپ جیت گیا ۔ ٹرمپ کے جیتتے ہی انہوں نے اپنی فرمائشی فہرست اس کے سامنے رکھ دی ۔ ایک کاروباری فرد کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا کوئی حریف نہ ہو اور کاروبار پر اس کی اجارہ داری ہو ۔ یہیں سے ٹیرف وار کا آغاز ہوتا ہے ۔ یاد کریں کہ ٹرمپ نے "سب سے پہلے امریکا” کے نعرے کے نام پر کیا کچھ اور کس طرح سے کیا ۔

اسے ہم بھارت اور تھائی لینڈ کو ایک کیس اسٹڈی کے طور پر دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں ۔ بھارت سے کی جانے والی فرمائشوں کی فہرست تو دیکھیں ۔ تیسلا اور اسٹار لنک کی بھارتی مارکیٹ میں آمد کی فوری اجازت ، روسی اسلحہ کے بجائے امریکی اسلحہ کی خریداری ، روسی اور ایرانی تیل کی خریداری روک کر امریکی کمپنیوں سے عرب تیل کی خریداری ، مونسینتو سے GM seeds کی خریداری وغیرہ وغیرہ ۔ مودی جی شروع میں تو ٹرمپ کی دوستی میں نہال تھے اور انہوں نے تیسلا اور اسٹار لنک کو فوری اجازت نامے جاری کردیے ۔ پھر اسلحہ کی خریداری میں وہ کچھ ہاں اور کچھ ناں کرکے کنی کاٹ گئے ۔ مگر چند چیزیں ایسی تھیں جن پر مودی جی کو بھی صاف انکار کرنا پڑا ۔ ان میں روسی اور ایرانی تیل کی خریداری اور مونسینتو کو جی ایم بیجوں کی فروخت کی اجازت شامل تھی ۔ ان میں سب سے اہم مونسینتو تھا ۔ یہ کمپنی پہلے ہی بی ٹی کاٹن کے بیجوں کے ذریعے بھارت کی کپاس کے کاشتکاروں پر تباہی نازل کرچکی ہے اور اب دیگر زرعی فصلوں پر اس کی نگاہ ہے ۔اب ٹرمپ پر ان پر سرمایہ کاری کرنے والی افراد کا دباؤ بڑھنا شروع ہوا ۔ جوں جوں دباؤ بڑھتا گیا ، توں توں بھارت زیر عتاب آتا چلا گیا ۔ اب بھارت کو دباؤ میں لانے کے لیے اس کے پڑوسی پاکستان اور بنگلا دیش ٹرمپ کے لاڈلے بنتے چلے گئے اور بھارت پر پابندیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ایسا ہی کچھ تھائی لینڈ کے کیس میں ہوا ۔ تھائی لینڈ میں گزشتہ اگست میں پیتونگترن شناوترا نے اقتدار سنبھالا ۔ یہ تھائی لینڈ کی سب سے کم عمر اور دوسری خاتون وزیر اعظم تھیں ۔ یہ ایک کاروباری خاتون تھیں ۔ ان کے والدتھاکسن شناوترا 2001 سے 2006 تک اور ان کے چچا ینگ لک شنا وترا 2011 سے کر 2014 تک تھائی لینڈ کے وزیر اعظم رہے ۔ برسراقتدار آتے ہی نوجوان وزیر اعظم پیتونگترن نے تھائی لینڈ کی ترقی کا اعادہ کیا ۔ ان کے سامنے دبئی کا ماڈل تھا ۔ تھائی لینڈ میں سیاحت پہلے ہی موجود ہے تاہم اب نئی وزیر اعظم نے تھائی لینڈ کو تجارتی اور صنعتی حب بنانے کا منصوبہ پیش کیا ۔ اس کے لیے انہوں نے دفاعی بجٹ کم کرکے یہی رقم انفرا اسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کرنے کا منصوبہ پیش کیا ۔

تھائی لینڈ شروع سے ہی امریکی بلاک میں شامل رہا ہے جبکہ اس کا پڑوسی کمبوڈیا روسی بلاک میں شامل ہے ۔ دیگر ممالک کی طرح ان میں بھی سرحدی تنازعات موجود ہیں ۔ تھائی لینڈ نے دفاعی بجٹ کم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر فوج میں کمی کا نہیں ۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ اب وہ اسلحہ کی خریداری میں کٹوتی کردے گا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ویت نام سارے کا سارا اسلحہ خریدتا ہی امریکا سے ہے ۔ یہ بات امریکی کمپنیوں کو بہت بری لگی اور انہوں نے ٹرمپ سے تھائی لینڈ کو سبق سکھانے کا مطالبہ کردیا ۔ ابھی تھائی وزیر اعظم نے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کا اعلان ہی کیا تھا کہ ان کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ تھائی حکومت اپنی فوجی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے جدید اسلحہ خریدے گی اور اس کے لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرے گی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ تھائی وزیر دفاع کا یہ بیان ان کی وزیر اعظم کے فیصلوں کے برعکس تھا ۔ ابھی تھائی وزیر اعظم اپنے وزیر دفاع کی گوشمالی کا سوچ ہی رہی تھیں کہ ان کی ایک آڈیو لیک ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ وائرل ہوگئی ۔ اس آڈیو میں وہ کمبوڈیا کے وزیر اعظم سے جنگ نہ کرنے کی بات کررہی ہیں اور انہیں انکل کہہ کر مخاطب کیا ۔ اس آڈیو کا مطلب ایسے ہی تھا جیسے کوئی پاکستانی اور بھارتی وزیر اعظم ایک دوسرے سے اس طرح کی بات کررہے ہوں ۔ یہ آڈیو ریکارڈنگ انٹیلی جینس ایجنسیوں کا کمال تھا اور اسے وائرل کرنا امریکی ہائی ٹیک کمپنیوں فیس بک، انسٹا گرام ، ایکس اور دیگر کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔ اب تھائی سیاست میں سرگرم دیگر کرداروں کو متحرک کردیا گیا اور یوں نئی وزیر اعظم کے خلاف ایک ماحول بن گیا ۔ فوری طور پر پیتونگترن شناوترا کو ان کے عہدے سے معطل کردیا گیا اور بعدازاں انہیں برطرف کردیا گیا ۔ اس دوران تھائی کمبوڈیا کی سرحدی جھڑپیں بھی پراسرار طور پر شروع ہوگئیں اور یوں تھائی دفاعی بجٹ کم تو کیا ہوتا ، اس میں روز اضافہ ہوتا ہی چلا گیا ۔ مزید اسلحہ خریدنے کی آخری منظوری 23 دسمبر 2025 کو دی گئی ۔

بھارت اور تھائی لینڈ کے مذکورہ بالا دونوں کیس اسٹڈی سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ بھی ایک کٹھ پتلی ہے ۔ اسے دنیا کے منظر نامے پر رہنے کا شوق ہے ۔ وہ اس وقت اپنے آپ کو ہرکولیس سمجھ رہا ہے ۔ اس کی ڈوریاں پیچھے سے امریکی کمپنیاں ہلا رہی ہیں ۔ جیسے ہی ٹرمپ ادھر ادھر ہونے کی کوشش کرتا ہے ، ایپسٹین فائلز کا غوغا شروع ہوجاتا ہے اور وہ پھر سے دبک جاتا ہے ۔اب ہمارے لیے دنیا کے منظر نامے کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔ آئندہ آرٹیکل میں وینزویلا کی صورتحال اور پھر پاکستان میں جی زی کے حالیہ اسٹنٹ پر گفتگو کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

نیا برس : امکانات و خدشات

اگلی پوسٹ

امریکی ایجنڈا عالمی سیاسی صورتحال اور بھٹو۔

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post

امریکی ایجنڈا عالمی سیاسی صورتحال اور بھٹو۔

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper