کراچی (رپورٹ۔اسلم شاہ)واٹر کارپوریشن نے سب سوئل واٹر سیل(متنازعہ) کو ریوینو ریسورسز گروپ میں اور این ایل سی ہائیڈرنٹ کو ہائیڈرنٹس سیل کے کنٹرول میں دیدیا گیا ہے۔ سینئر ڈائریکٹر نثار مگسی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سوئل کی آمدنی دن بدن کم ہورہی ہے اور اب ایک کروڑ 70 لاکھ روپے تک رہ گئی ہے۔ یہ انتظامی تبدیلی واٹر کارپوریشن کی مشاورت سے کی گئی ہے،مبینہ طور پر سب سوئل واٹر سیل بدعنوانی کا گڑھ بن گیا تھا۔ 70 کمپنیوں کے لائسنس ہونے کے باوجود آمدنی دن بدن کم ہورہی تھی۔ سب سوئل لائن میٹرز کے بغیر ایوریج بلنگ کی جارہی تھی۔ بادی النظر میں یوں لگتا تھا کہ پورا سیل ہی بدعنوانی میں ملوث ہو گیا تھا جبکہ سب سوئل واٹر کی کمپنیوں نے کراچی کے پانی کی لائنوں کا پانی چوری کرکے اپنا گھناونا کاروبار کررہے ہیں اور ماہانہ اربوں روپے کما رہے ہیں جبکہ واٹر کارپوریشن کے سرکاری خزانے میں چند لاکھ رپے جمع کررہے ہیں۔ پانی کے ساتھ آمدنی کا ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا، اس میں چیف سیکورٹی آفیسر انجم توقیر ملک جو
عارضی ملازم تھے ان کا مرکزی کردار بتایا جاتا ہے۔ ان کی ملازمت 18 دسمبر 2025 کو ختم ہوچکی ہے تاہم وہ کسی اتھارٹی کے بغیر غیر قانونی طور پر اپنے آپ کو ملازم ظاہر کر کے اپنے معاملات چلا رہے ہیں جو واٹر کارپوریشن کے تمام حلقوں میں سوالیہ نشان ہے اور اس شک کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر واٹر کارپوریشن سے جو مال بنا رہے ہیں وہ نہ صرف اوپر تک پہنچا رہے ہیں اسی لیئے ان کو غیر قانونی کاموں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔انجم توقیر ملک کو جب سب سوئل سیل کا عارضی عہدہ دیا گیا تھا اس وقت ہی انہوں نے سب سوئل کمپنیوں کے خلاف کاروائی سے روک دیا اور بدعنوانی کو روکنے کے بجائے خود بھی بڑے پیمانے پر بدعنوانی میں ملوث ہوگئے تھے، دلچسپ امر یہ ہے کہ سب سوئل کے تمام عہدیدار پانی چوری میں ملوث ہیں ان پر ایف آئی آر درج ہوئی اور مقدمات بھی دائر ہوئے تھے لیکن ان پر کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی کیونکہ مبینہ طور پر محکمے کا انچارج خود ملوث تھا۔پولیس کے مطابق پانی چوری میں سب سوئل ایسوسی ایشن کے کئی عہدیدار پکڑے گئے، مقدمات درج ہوئے لیکن گرفتاری نہ ہوسکی، نہ مقدمات کی تفتیش ہوسکی۔ ایسوسی ایشن کے صدر و سیکریٹری سمیت 12 عہدیداروں کے نام سامنے آ چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل مہر، جنرل سیکریٹری اجمل ولی خان سمیت دیگر عہدیدار کے خلاف ایک سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ لیکن اپنے اثر و رسوخ سے تاحال تمام مقدمات خارج ہوچکے ہے، تاہم میئر کراچی مرتضی وہاب نے پانی چوروں پر قائم مقدمات کا نئے ٹربیونل میں ازسر نو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ سائٹ میں چھان بین کے دوران سب سوئل واٹر کا گھناؤنا کاروبار کرنے والوں میں جن لوگوں کے نام ظاہر کیئے گئے ہیں ان میں محمد ایاز خان،بابر سلیم اللہ خان، شمس الرحمن خان، برکت نور محمد، محمد سلیم، ذوالفقار علی خان، محمد مدثر، محمد اعظم، رضا اللہ خان، یار محمد خان،عتیق اللہ، سعید اللہ خان، راشد نسیم، محمد عزیر، محمد عزیر شکیل، عمیر شکیل، جمیل احمد، جمیل احمد شاکر، شہزاد محمد خان، حمیر شکیل،امجد علی خان، فضل اسلام، ولی خان، محمد عرفان موتن، رفیع اللہ،اسلام شاہ،، صاحبزادہ سہیل عباسی، راجہ امین اللہ، حق عباسی اور محمد اشفاق تنولی کے نام شامل ہیں۔ صرف سائٹ انڈسٹری میں سب سوئل کے نام پر اربوں روپے کا پانی چوری کرکے فروخت کررہے ہیں اور پانی چوری کا سدباب کرنے والی اینٹی تھیفٹ سیل و سب سوئل واٹر سیل کے افسران کا ایکشن کے بجائے مک مکاؤ پر توجہ ہے۔ سابق چیف سیکورٹی آفیسر انجم توقیر ملک اور ایگزیکٹیو انجینئر تابش رضا ایگزیکٹیو آفیسر مشتاق احمد سمیت دیگر افسران کروڑوں روپے کے اثاثوں کے مالک بن چکے ہیں۔ شہر میں کارپوریشن کی سب سوئل واٹر سیل نے 70 کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا تھا جن کے 292 بور کی تصدیق کی ہے، تاہم بور کی مجموعی تعداد 12 سے تجاوز کرگئی ہے اور رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر بور کرکے کراچی میں 10 ارب روپے سے زائد کما رہے ہیں جبکہ ادارے کی مجموعی آمدنی ساڑھے پانچ کروڑ روپے بتائی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کمپنی کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا کیونکہ یہ سب ملیر بھگت سے ہو رہا ہے۔ ملیر ندی اور لیاری ندی کے واقعہ پر سب سوئل واٹر سیل کے نام پر لاقانونیت کا راج ہے۔ کارپوریشن کے افسران کو کوئی معلومات نہیں ہیں اور شہر کو بورنگ مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو کئی سالوں سے لاکھوں گیلن پانی چوری کرکے فروخت کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق چیف سیکورٹی آفیسر انجم توقیر ملک اور ایگزیکٹیو انجینئر تابش رضا نے تمام افسران اور عملے پر واضح کر دیا تھا کہ اب سب سوئل واٹر کمپنوں کے خلاف آپریشن نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی کی شکایت پر نوٹس لیا جائیگا۔ ناظم آباد آپریشن کوتین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن کاروائی منتقی انجام تک نہیں پہنچ سکی اور سب سوئل تابش رضا بھی جنوری 2026 ء کے اخر میں ملازمت سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے لیکن مبینہ طور پر دونوں لوٹ مار میں سرگرم ہیں جس کے نیتجے میں پانی چوری کرنے والے بڑے چوروں کے خلاف آپریشن نہیں کیا جارہا ہے۔ کورنگی، لانڈھی بن قاسم، شاہ فیصل، ملیر ندی کے ساتھ علاقوں اور صعنتی زون کے اطراف پانی چوری کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ اینٹی تھیفٹ سیل اور سب سوئل واٹر سیل پانی چوروں کے خلاف کاروائی سے گریز کررہے ہیں اور رشوت و کمیشن وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ناظم آباد کے علاقے میں اورنگی نالے کے اطراف کچی آبادی میں سب سوئل کے نام پر بڑے پیمانے پر کراچی کا پانی چوری کیا جارہا ہے۔ ناظم آباد کے قریب اورنگی نالہ پانی چوری کا مرکز بن چکا ہے۔ اورنگی نالے کے ساتھ پاک کالونی، رضویہ کالونی اور گولیمار سمیت لیاری ندی میں پانی چوروں کا گھناؤنا کاروبار جاری ہے۔ ناظم آباد میں پانی چوروں نے 33 انچ کی لائن کو چوک کرکے پانی سب سوئل کے نام پر سائٹ انڈسٹری میں مہنگے داموں فروخت کررہے ہیں۔ گذشتہ 15 سالوں میں اس طرح کے کئی نام نہاد آپریشن کیئے گئے اور دعویٰ بھی کیئے گئے تھے لیکن نہ کسی ایک ملزم کی بھی گرفتاری ہو سکی نہ کسی کا لائسنس معطل ہوا اور نہ کسی پر کوئی جرمانہ یا قید و بند کی سز ا دی گئی۔ مبینہ طور پر کراچی کے پانی چوروں کے خلاف آپریشن میں آٹھ کنکشن پکڑے گے جن میں صرف چار کنکشن کے ملزمان پر مقدمات درج ہوئے تھے، دیگر میں سوئل مافیا کے اہم کردار محمد شکیل مہر اور سیکریٹری اجمل ولی آفریدی کے نام موجود ہیں لیکن ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کوئی کاروائی نہیں ہو سکی۔
