اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):پاکستان نے یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ دیرپا اور پرامن حل کے لیے ڈائیلاگ اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں، ایسے کسی بھی اقدام گریز کیا جائے جو کشیدگی میں اضافے اور خطے کے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہو۔ ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شام وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جو حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو پہنچے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے موجودہ چیلنجز کے تناظر میں امت مسلمہ کے اندر اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے
بھی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس ہفتے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بھی قریبی رابطے رہے ہیں، متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔ دونوں رہنمائوں نے اسلام آباد اور بعد ازاں رحیم یار خان میں ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعاون اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقاتیں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قیادت کی سطح پر ایک سالہ بھرپور روابط کا نقطہ عروج ثابت ہوئیں۔انہوں نے بتایا کہ شیخ محمد بن زاید النہیان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ترقی اور علاقائی استحکام سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے بدھ کے روز بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ڈھاکہ کا دورہ کیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم کی رہائش گاہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ان کے صاحبزادے طارق رحمان اور صاحبزادی سے ملاقات کی۔انہوں نے بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور پاکستانی عوام اور قیادت کی جانب سے تعزیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھاکہ میں قیام کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر خالد الرحمٰن، قانون و انصاف کے مشیر آصف نذرالاسلام اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے صومالیہ کی صورتحال پر بتایا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس ضمن میں اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے نام نہاد علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں
فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے اور فلسطینی عوام کی حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، مصر، کویت، ایران، عراق، اردن، لیبیا، مالدیپ، نائیجیریا، اومان، فلسطین، ریاست قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، یمن اور تنظیم تعاون اسلامی کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی،صومالیہ کی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا ۔انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر کہا کہ سرحد کی بندش کے بعد پاکستان کا سفارتخانہ اور قونصل خانے افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں، بشمول طلبہ سے مسلسل رابطے میں ہیں جو وطن واپسی کے لیے مدد کے خواہاں تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام سے بھی شہریوں کی سلامتی کے لیے رابطے میں ہیں اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ اب تک سفارتخانے سے رابطے میں رہنے والے 15 طلبہ اور 291 دیگر افراد بحفاظت پاکستان واپس آ چکے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان ون چائنہ پالیسی پر کاربند رہے گا اور تائیوان کو چین کا ناقابل تنسیخ حصہ سمجھتا ہے۔انہوں نے متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے تاریخی وعدوں کی پاسداری کریں اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے دولہستی اسٹیٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر سے متعلق رپورٹس پر شدید تحفظات ہیں، 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے جو فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاہدے کی پاسداری کرے اور سندھ طاس کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے۔
