کراچی( ) عالمی کتب میلے کے دوسرے روز ایکسپو ہال 2 میں معروف سفرنامہ نگار بشیر سدوزئی کے سفرنامہ ترکیہ ” روشنی کے تعاقب میں ” کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ادیبوں نقادوں اور دانشوروں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حالات و واقعات پر لکھنے والے بشیر سدوزئی نے اچانک پلٹا کھایا اور ادب میں داخل ہوا تو سفرنامہ کی دنیا میں کھوتی روایات 
کو بحال کر دیا۔۔ صدر تقریب معروف نقاد و شاعر فراست رضوی نے کہا کہ بشیر سدوزئی نے سفر نامہ میں اس اسلوب کو بحال کر دیا جو ابن انشاء کے بعد لوگ بھول رہے تھے۔ ترکیہ کے حوالے سے کئی سفرنامہ پڑھ چکا ہوں مگر جو ترکیہ کی سیاحت بشیر سدوزئی نے لکھی وہ کمال ہے جس میں لفاظی کم اور حقیقت زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ بشیر احمد کی نثر میں بلا کا شاعری
اسلوب ہے، ان کا پیش لفظ ہی پڑھنے سے طبعیت خوش ہو جاتی ہے۔ فراست رضوی نے کہا کہ بظاہر یہ ترقی پسند اور روشن خیال لکتے ہیں مگر اندر سے مذبی اور سچی پاکستانی ہیں۔ سفر کے دوران اپنے ملک ماں اور مذہب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ معروف صحافی اور شاعر عثمان جامعی نے کہا کہ عجب قصہ ہے کہ بشیر سدوزئی کو سارے ترکیہ میں کسی لڑکی سے ملاقات نہیں ہوئی جو جدید دور کے سفرنامہ نگاروں کو اکثر ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشیر سدوزئی کے سفرنامہ ادب تاریخ، ثقافت، معلومات اور علم سے بھرے ہیں۔ معروف صحافی اور کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر اور معروف صحافی طاہر حسن خان نے کہا کہ بشیر سدوزئی کی زندگی جدوجہد سے بھری ہوتی ہے۔ میں تجویز دوں گا کہ وہ کراچی پر کتاب کے دوسرے حصے کو پہلے مکمل کریں۔۔ معروف صحافی و شاعرخورشید احمد نے کہا کہ بشیر سدوزئی میرا کلاس فیلو ہے اس لیے ہمیں فخر ہے کہ میرا ساتھی ادبی دنیا میں اوبر آ چکا۔ بشیر سدوزئی نے کہا کہ ترکیہ میں روشنی ہی روشنی ہے، تاریخ، آرکائیو، ثقافت، ترقی علم، جمہوریت اور سب سے زیادہ روحانیت، حضرت مریم کا گھر، اصحاب کہفکی غار، حضرت ایوب انصاری، مولانا جلال الدین رومی اور عثمان غازی کے مزارات میں متاثر کن کشش ہے۔ پروگرام کی میزبانی معروف شاعر ہدایت سحر نے انجام دی۔

