اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کی 28 ویں سالانہ پائیدار ترقی کانفرنس کے اختتامی روزمیں عالمی ماہرین نے واضح کیا کہ پاکستان کی کمزور ہوتی موسمیاتی لچک اور سست ترقیاتی پیشرفت کو سنبھالنے کیلئے جدید اور پیشگی مالیاتی انتظامات ناگزیر ہیں، مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی مضبوط رسک مینجمنٹ پر مبنی ہونی چاہئے تاکہ ہنگامی مالیاتی صورتحال سے نمٹنے میں تاخیر نہ ہو۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے بتایا کہ کانفرنس میں علاقائی رابطہ، عالمی ٹیرف، لیونگ ویج، موسمیاتی لچک، آفات میں کمی اور سب ریجنل تعاون جیسے موضوعات پر 23 ممالک کے ماہرین نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یو این ڈی پی کے سیموئیل رزک نے کہا کہ دنیا
ایک بڑے مالیاتی دوراہے سے گزر رہی ہے اور پائیدار ترقی کیلئے حکومت بنیادی سرمایہ کار جبکہ ترقیاتی ادارے اور نجی شعبہ معاونت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مربوط، شراکتی اور رسک انشورڈ فنانسنگ اپنانا ہوگی۔ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر بولرما امگابازا نے پاکستان کی آبی و فضائی آلودگی اور بڑھتی ہوئی آبادی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے فوری اقدامات نہ کئے تو 2050 تک اس کے جی ڈی پی میں 20 سے 30 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ورلڈ بینک کا 20 ارب ڈالر کاجامع ترقی روڈ میپ آئندہ بیس برس کیلئے دستیاب ہے جس کے تحت حکومت ترجیحات طے کر سکتی ہے۔آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنچی نے کہا کہ پاکستان کیلئے ماحولیات، وبائوں اور دیگر طویل المدتی ساختی خطرات سے نمٹنے اور پائیدار اصلاحات کیلئے حالیہ 1.4 ارب ڈالر کا پروگرام معاشی اور موسمیاتی لچک بڑھانے کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال سے سالانہ عوامی ترقیاتی منصوبوں کیلئے ماحولیاتی جانچ پڑتال لازمی ہوگی جس سے وسائل کے درست استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔جیسن اوونسینیا نے پاکستان میں صاف توانائی، وسائل کے موثر استعمال اور جدید پیداواری ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری بڑھانے اور نجی شعبے کے درمیان تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام میں اصلاحات ترقیاتی کارکردگی کیلئے اہم ہیں۔قبل ازیں ڈیجیٹل کرنسی کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ کے دوران
ماہرین نے قرار دیا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے بارے میں واضح پالیسی بنا کر عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بننا ہوگا ورنہ ملک بڑے معاشی مواقع کھو سکتا ہے۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے چیئر مین و پنجاب بینک کے سربراہ ظفر مسعود نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل چوراہے پر کھڑا ہے اور مرکزی بینک بھی اپنی ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی ) پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے بروقت قانون سازی نہ کی تو 20 سے 25 ارب ڈالر کے مواقع ضائع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں 27.6 ٹریلین ڈالر مالیت کے سٹیبل کوائنز گردش کر رہے ہیں جو مالیاتی طاقت کے نقشے کو بدل رہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ساجد امین نے کہا کہ ایک طرف سٹیٹ بینک نے کرپٹو ٹریڈنگ پر پابندی لگا رکھی ہے دوسری جانب سی بی ڈی سی پر کام ہو رہا ہے جس سے پالیسی ابہام پیدا ہوا ہے۔انہوں نے سائبر سکیورٹی، توانائی کی قلت اور دھوکہ دہی کے بڑھتے خدشات کو بھی اہم چیلنج قرار دیا۔ سٹیٹ بینک کے فیصل مظہر نے کہاکہ پاکستان 2022 سے سی بی ڈی سی پر کام کر رہا ہے اور جلد اس کا پروٹوٹائپ تیار کر لیا جائے گا۔علی فرید خواجہ نے کہا کہ عالمی سیاسی تبدیلیاں بھی ڈیجیٹل اثاثوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹیبل کوائنز کے ذریعے ترسیلات کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سیشن میں ماہرین نے خبردار کیا کہ آب و ہوا کی تبدیلی پاکستان کے صحت کے نظام کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیںسیاسی عزم، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور مقامی سرمایہ کاری کے بغیر پاکستان موسمیاتی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پی اے ٹی ایچ کی ڈاکٹر نھو نگویئن اورڈاکٹر ماہ رخ شمس ،نبیل منیر، اینا ساسی ،ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ اورڈاکٹر اقرار خان نے مٹی کی زرخیزی میں کمی، آہنگ فصلوں کی ضرورت اور درست ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔عالمی تجارتی نظم و نسق سے متعلق سیشن میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان کو بدلتی ہوئی جیو اکنامکس کے تناظر میں اپنی معاشی و تجارتی پالیسیوں کا فوری ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ وزارتِ تجارت کے جوائنٹ سیکرٹری محمد اشفاق نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ علاقائی تجارت ہی پاکستان کیلئے پائیدار راستہ ثابت ہوسکتی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید، اورنیپال کے ڈاکٹر پارس کھریال نے امریکی ٹیرف نظام کو عالمی تجارت میں عدم استحکام کا بڑا محرک قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو امریکہ کے تجارتی دبائو کا مقابلہ کرنے کیلئے آسیان ماڈل اپنا نا چاہئے۔
