• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت کی 21 یادداشتوں پر دستخط، مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
September 4, 2025
in پاکستان
0
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کیلئے مفاہمت کی 21 یادداشتوں پر دستخط، مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،وزیراعظم شہباز شریف
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بیجنگ۔(نمائندہ خصوصی )پاکستان اور چین نے زراعت ،الیکٹرک وہیکلز ،شمسی توانائی،صحت، کیمیکل وپیٹرو کیمیکلز، آئرن اور سٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لئے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خصوصی اقتصادی زونز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس اور مفاہمت کی یادداشتوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگا،یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،پاکستان چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعاون چاہتا ہے،چین کی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہے،چینی سرمایہ کاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،چینی صنعتوں کو پاکستان میں منتقلی سے سستی لیبر سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں گی،پاکستان میں چینی بھائیوں کے سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔جمعرات کو یہاں پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے گئے۔اس موقع پر نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار،متعلقہ وفاقی وزراء، اور ممتاز پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔1.54 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز ہائی ٹیک،زراعت، میڈیکل و صحت ،کیمیکل و پیٹرو کیمیکل، آئرن سٹیل و تانبے، شمسی توانائی، الیکٹرک وہیکلز کے شعبوں سے ،متعلقہ کمپنیوں کے نمائندوں نے مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر دستخط کئے۔پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے لئے باعث افتخار ہے کہ انتہائی اہمیت کے حامل چینی کاروباری اداروں سے مخاطب ہوں، میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی کانفرنس شریک ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری اور سٹیل اور آئرن سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ہماری یہ دوستی دیانتداری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ ہر خوشی اور مشکل کی گھڑی میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا مخلص، سچا دوست ہے جو ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، زلزلہ ہو یا سیلاب جس طرح چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ایسی کسی اور ملک کی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عظیم دونوں ممالک کے درمیان ہمارے اسلاف نے جو تعلقات قائم کئے تھے ،وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں مزید آگے لے کر جائیں گے، 2015ء میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور میرے بہت ہی پیارے بھائی چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور میرے بڑے بھائی وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ سی پیک کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کے نتیجہ میں چینی کمپنیوں نے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری سے 22، 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا اور 2018ء میں پاکستان توانائی کی ضروریات میں خود انحصار ہو گیا، صنعتیں بحالی ہوئیں، زراعت بحال ہوئی، انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبے، روڈ نیٹ ورک، اورنج لائن لاہور، ڈیمز اور دیگر بہت سے منصوبے شروع ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو ترقی ملی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے درمیان میں یہ سلسلہ رک گیا لیکن آج نہ صرف یہ منصوبے بحال ہوئے بلکہ دوطرفہ اعتماد، باہمی احترام اور گرمجوشی میں اضافہ ہوا جو وقت کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، یہ سی پیک 2.0 بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کا 60 فیصد انحصار زراعت پر ہے، چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنے تجربات، مہارتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے زرعی شعبہ پر صرف کریں اور زراعت کو فروغ دیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا، چین وہ اشیاء پاکستان سے درآمد کر سکے گا جو دیگر ممالک سے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے جس میں چین عالمی سطح پر سب سے آگے ہے، کان کنی اور معدنیات باہمی تعاون کا ایک اور اہم باصلاحیت شعبہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاشبہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مواقع فراہم کر رہے ہیں، چین ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر شعبوں کی صنعتوں کو پاکستان منتقل کر سکتا ہے اور پاکستان کی افرادی قوت سے استفادہ کر سکتا ہے جو دیگر ممالک کے مقابلہ میں کم لاگت پر میسر ہے، چینی سرمایہ کار تھرڈ ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ان سہولیات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا منافع بڑھا سکتے ہیںوزیراعظم نے کہا کہ میں چینی سرمایہ کاروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستانی وزراء اور توانائی، انفارمیشن، ٹیکنالوجی، کامرس اور تمام شعبوں کے حکام موجود ہیں جو چینی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی موجودگی اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان چین جیسے عظیم دوست ملک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بطور چیف ایگزیکٹو آف پاکستان اور بطور پاکستانی وزیراعظم میں یہاں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری معیشت مضبوط ہو گی تو دونوں ملک مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور اقتصادی اشاریے مستقبل کی مثبت پیشرفت کی نشاندہی کر رہے ہیں، قلیل المدتی، وسط مدتی اور طویل المدتی سطح پر معاشی ترقی ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے ساتھ تعاون کے ذاتی عزم کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہے اور اب ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں چین کے تعاون سے دیگر ممالک کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ چینی بھائیوں اور بہنوں کی پاکستان میں سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، آئیں آگے بڑھیں اور معاشی منظرنامہ کو تبدیل کریں اور چین اور پاکستان کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں۔محمد شہباز شریف نے کہا کہ چینی بھائیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سہولت فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے دو تین ہفتے قبل چینی گروپ کے لوگوں کی نشاندہی پر درپیش مسئلہ کو 24 گھنٹوں میں حل کرنے کی مثال دی اور کہا کہ اسلام آباد میں چینی گروپ نے ملاقات میں بتایا کہ انہیں بعض مسائل کا سامنا ہے جس پر میں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں میں اس مسئلہ کو حل کیا جائے اور وہ مسئلہ حل کر دیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اسی طرح آپ کا دوسرا گھر ہے جس طرح چین ہمارا دوسرا گھر ہے، آگے بڑھیں اور جائنٹ وینچر سرمایہ کاری کریں، تمام وزارتیں، ادارے اور محکمے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور جلد ہم چینی اور پاکستانی سرمایہ کاری کے ذریعے صرف ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد خصوصی اقتصادی زونز قائم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرا خواب ہے اور ہم اس خواب کو معاہدوں پر عملدرآمد کے ذریعے پورا کریں گے، سی پیک 2.0 میرے لئے سب سے اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین 15 سال میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے اور دنیا کی بہترین عسکری قوت ہے اور یہ محنت، محنت اور محنت کے ساتھ ممکن ہوا ہے اور ہم چینی ماڈل کے ذریعے پاکستان کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کو جو شاندار ترقی ملی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، چین نے 700 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا اور نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار دیا بلکہ دنیا کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کی پیشکش کر رہا ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے، آج اپنے تجربات کے استفادہ کرنے اور صنعتی ترقی کی جانب بڑھنے کا وقت ہے اور پاکستان ایک دن متحرک معیشت میں بدلے گا۔ کانفرنس میں اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان مفاہمتی یاداشتوں کا تبادلہ خوش آئند ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی تقریب ہوتی رہی ہیں لیکن انتھک کوششوں اور سخت محنت سے یہ ممکن ہوا ہے پاکستان میں چین کے سفیر، چینی حکومت اور اور چین کی عظیم کاروباری شخصیات نے اس کو ممکن بنایا ہے،متعلقہ وفاقی وزرا، سرمایہ کاری بورڈ، ایس آئی ایف سی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکمہ کے درمیان بہتر رابطے سے اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی ہے،اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کا کردار قابل تحسین ہے،،مفاہمت کی یادداشتوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا،انہوں نے کہا کہ 1.5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز پر پاکستان اور چینی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں،مفاہمتی یاداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل کرنا اور ان پر عمل درامد ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا،اور دونوں حکومتوں کو قریبی رابطے کے ذریعے اگے بڑھنا ہوگا،،چین میں پاکستان کے سفیر اور چین کے پاکستان میں سفیر اور ہمارے وفاقی وزراء کو متعلقہ چینی عہدے داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،یقین ہے کہ ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے،انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون لائق تحسین ہے،دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں اور جوائنٹ وینچرز پر اگر ہم عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کے لئے لانگ مارچ ہوگااور یہ لانگ مارچ بیجنگ سے شروع ہو کر اور اسلام آباد اپنی منزل پر پہنچ کرختم ہوگااور یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایسے ملک میں تبدیل کر دے گا جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی،منافع بخش روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہوں گے،ہماری جی ڈی پی ترقی کرے گی اور معیشت مضبوط ہوگی،وزیراعظم نے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ہم آج شام سے ترقی کا لانگ مارچ شروع کریں گے اور اقتصادی ترقی کی منزل پہنچنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس کے لئے انتھک محنت کریں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی شاندار لمحہ ہوگا اس مقصد کے لیے تمام حکومتی ادارے، محکمے اور نجی شعبہ مل کر مکمل ہم آہنگی اور تعاون سے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے دن رات ایک کر دوں گا،اس کے لئے ہمیں سخت محنت کرنا ہوگی اس سے پاکستان اور چین وہ رول ماڈل بنیں گے جس کی دوسرے ممالک بھی پیروی کریں گے۔

Previous Post

چین کی شاندار معاشی ترقی دنیا کے لیے مثالی ہے، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

Next Post

پاکستان: ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر علاقائی امن کا ضامن

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
پاکستان: ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر علاقائی امن کا ضامن

پاکستان: ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر علاقائی امن کا ضامن

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper