ملتان ( نمائندہ خصوصی) ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کی باورچی کیساتھ بدفعلی کی ویڈیو سامنے پر پر اعلیٰ سطحی انکوائری کا آغاز ہوگیا، کمشنر آفس ملتان میں دونوں کے بیانات قلمبند ، 6 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی انکوائری میں باورچی کی جانب سے مزید ویڈیو ثبوت بھی تحقیقاتی کمیٹی کے حوالے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ تفصیل کے مطابق ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کی اپنے باورچی اعجاز حسین کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری شروع ہوگئی ہے ۔ گذشتہ روز انکوائری کمیٹی لاہور سے کمشنر آفس ملتان پہنچی اور اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری احمد سرور کررہے تھے جبکہ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ راؤ عبدالکریم ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ غلام فرید ، کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان، ایس پی گلگشت سیف اللہ گجر موجود تھے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان اور
باورچی اعجاز حسین انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے ۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ باورچی اعجاز حسین نے انکوائری کمیٹی کو اپنے مؤقف کی تائید میں مزید کچھ ویڈیو ثبوت حوالے کئے اور بتایا کہ وائس چانسلر اس کی 13 سالہ کمسن بیٹی اور اس کی کلاس فیلو پر بری نظر رکھتے تھے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان نے کمیٹی کو بتایا کہ باورچی کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر اور ان کے خلاف سازش ہے تاہم وہ انکوائری کمیٹی کو اس حوالے سے مطمئن نہ کرسکے ۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کا آغاز 11 بجے ہوا اور یہ تحقیقات سہہ پہر 4 بجے تک جاری رہیں ۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے باورچی سے مزید ویڈیو کلپس لے لئے ہیں جن کو فرانزک کے لئے بھیج کر چیک کروایا جائے گا اس کے بعد مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی ڈاکٹر فاروق کو بھی انکوائری کے لئے طلب کر رکھا تھا لیکن وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوسکے ،معلوم ہوا ہے کہ وہ چھٹی لیکر اپنے آبائی علاقے سرگودھا گئے ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ انکوائری کے موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کو پولیس نفری کے ہمراہ کمشنر آفس ملتان لایا گیا اور انکوائری کے بعد بھی وہ پولیس نفری کے ہمراہ واپس گئے ۔
