اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک غبارہ تھی ہوا نکلی تو حیثیت ختم ہوگئی ،الیکشن کیلئے تیار ہیں مگر ہمیں ماحول دیا جائے ، ملک کے دو صوبے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں ایسی صورت میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ،کسی اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیںکرونگا ،وزیراعظم وہی ہوگا جسے عوام منتخب کرینگے ، (ن)لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد ہوگیا ہے ،جو وفاداریاں بدل رہے ہیں انہیں زبردستی پی ٹی آئی میں شامل کیا گیا تھا ،کوئی کسی کیلئے راہ ہموار نہیں کرسکتا، پی ٹی آئی سے وہی لوگ جا رہے ہیں جو زبردستی شامل کئے گئے تھے۔ منگل کے روز اسلام
آباد میں وفاق المدارس کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے اور اس حوالے سے آج کنونشن سینٹر میں بڑا اجتماع ہوگا انہوں نے کہاکہ مدارس کے نظام میں رکاوٹیں دور ہونی چاہیے مدارس کی رجسٹریشن کیلئے قانون ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا باجوڑ سانحہ کے بعد ہمارے 5 کارکن شہید ہو چکے ہیں، 2 صوبے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں، ڈی آئی خان، ٹانک اور لکی مروت میں پولیس نہیں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سمیت بہت سے علاقوں میں رات کو پولیس کی بجائے سڑکوں پر مسلح لوگ ہوتے ہیں، کیا ایسے ماحول میں انتخابی مہم چلائی جاسکے گی؟ کیا ایسے حالات میں الیکشنز ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات میں ہر وقت جانے کیلئے تیار ہیں انتخابات کیلئے ماحول فراہم کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہم نے تحریک مل کر چلائی ہے اورتعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔مسلم لیگ ن سے اتحاد ہوگیا یہ الیکشن کے بعد بھی جاری رہے گا، مسلم لیگ ن سے اپنا اتحاد ہمیشہ برقرار رکھیں گے، ن لیگ سے الیکشن کی سطح کے مذاکرات کے لیئے کمیٹیاں جوڑ دی ہیں، دونوں پارٹیوں میں قیادت کی سطح پر اتفاق ہے، ہم بنیادی اتحادی بن چکے ہیں، پیپلزپارٹی انتخابی سطح کے کوئی رابطے نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کسی اور پارٹی کے اندرونی معاملے پر تبصرہ نہیں کروں گا لیکن تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک غبارہ
تھا جس میں ہوا بھری گئی تھی اب اس غبارے سے ہوا نکل گئی ہے، پی ٹی آئی کے الیکشن سے پتہ چل گیا کہ وہ سیاسی پارٹی نہیں ہے، جو وفاداریاں تبدیل کر رہے وہ پہلے زبردستی بازو مروڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کیے گئے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اگلا وزیراعظم وہی ہوگا جو عوام چاہے گی جن لوگوں کی وفاداریاں تبدیل ہورہی ہے ان کو زبردستی پی ٹی آئی میں لایا گیا تھاجو لوگ پی ٹی آئی میں گئے ہیں وہ خود کہہ رہے تھے ہم مجبور ہیںہم اصول کے تابع ہے اور اصول پر چلما چاہتے ہیںانہوں نے کہاکہ الیکشن کے لئے تیار ہیں مگر ہمیں انتخابی ماحول دیا جائے لاہور میں تو سب ٹھیک ہے مگر ہماری طرف بھی سب ٹھیک ہو انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے الیکشن سے پتہ چل گیا کہ وہ سیاسی پارٹی نہیں ہے حالیہ انٹرا پارٹی انتخابات سے پی ٹی آئی کی اصلی حیثیت سامنے آگئی ہے۔
