منیٰ، مکہ مکرمہ۔(نمائندہ خصوصی):پاکستان کے ایک لاکھ 18 ہزار سےزیادہ اور دنیا بھر کے لاکھوں حجاج کرام آج(جمعہ)کو ایامِ حج کے پانچویں دن بھی تینوں جمروں (جمراتِ صغریٰ، وسطیٰ اور عقبہ) پر رمی (کنکریاں مارنے) کا فریضہ خشوع و خضوع کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ مناسکِ حج کے طے شدہ شیڈول کے مطابق، اکثر حجاج کرام آج 12 ذی الحجہ کی رمی مکمل کرنے کے بعد منیٰ کی خیمہ بستی کو چھوڑ دیں گے، جبکہ کچھ حجاج کرام کل 13 ذی الحجہ کی اختیاری رمی کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے۔ تمام حجاج کرام اپنے اپنے ناظم (گروپ لیڈر) کی رہنمائی اور طے شدہ نظم و ضبط کے تحت محفوظ طریقے سے اپنی رہائش گاہوں تک واپس پہنچیں گے۔موجودہ مرحلے تک پہنچنے کے لیے حجاج کرام نے گزشتہ چار دنوں میں حج کے اہم ترین مناسک اور مراحل طے کیے۔حج کا آغاز پہلے دن 8 ذی الحجہ (یوم الترویہ) کو ہوا جہاں پاکستانی عازمین سمیت تمام حجاج نے مکہ مکرمہ سے احرام باندھ کر منیٰ کی عارضی خیمہ بستی کا رخ کیا اور وہاں قیام کے دوران پانچوں وقت کی نمازیں ادا کیں۔ دوسرے دن 9 ذی الحجہ کو حج کا رکنِ
اعظم ‘وقوفِ عرفات’ ادا کیا گیا، جہاں حجاج کرام نے میدانِ عرفات میں خطبہِ حج سنا، نمازیں یکجا کیں اور گڑگڑا کر دعائیں مانگیں، جس کے بعد غروبِ آفتاب ہوتے ہی تمام حجاج مزدلفہ روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے کھلے آسمان تلے رات گزاری اور جمرات کے لیے کنکریاں جمع کیں۔تیسرے دن 10 ذی الحجہ (یوم النحر) کو حجاج کرام مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے بڑے شیطان (جمرہ عقبہ) کو کنکریاں ماریں، قربانی کی، اور سر منڈوانے یا بال کٹوانے کے بعد احرام کھول دیے اور طوافِ زیارت کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔چوتھے دن 11 ذی الحجہ کو حجاج کرام نے منیٰ میں قیام کیا اور قربانی و حلق کے بعد دوسرے دن بھی ترتیب کے ساتھ تینوں جمرات پر جا کر رمی کا فریضہ سرانجام دیا۔ حج کے تیسرے اہم ترین فرض ‘طوافِ زیارت’ کو ادا کرنے کا آج آخری دن ہے، جس کے لیے عازمینِ حج کی بڑی تعداد مسلسل مسجد الحرام کا رخ کر رہی ہے۔وزارتِ مذہبی امور کے خدام الحجاج منیٰ کے اندر، اہم شاہراہوں اور تمام خارجی راستوں پر چوبیس گھنٹے تعینات ہیں تاکہ اپنے اپنے خیموں اور رہائش گاہوں کی طرف لوٹنے والے حاجیوں کو درست راستہ بتا سکیں اور ان کی رہنمائی کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی معذور اور بزرگ حجاج کرام کی عارضی معاونت اور سہولت کے لیے منیٰ کے مختلف مقامات اور جمرات کے راستوں پر متحرک وہیل چیئر ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں، جو ضعیف العمر عازمین کو جمرات تک لانے اور لے جانے میں بھرپور مدد فراہم کر رہی ہیں۔

