ریاض( نمائندہ خصوصی):سعودی عرب کا وژن 2030 آخری مرحلے میں داخل ہو گیا اور اس کے بیشتر اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں۔ اردو نیوز نے سعودی وژن 2030 کی رپورٹ 2025 کے حوالے سے بتایا کہ مملکت کی نان آئل سرگرمیاں اب حقیقی مجموعی قومی پیداوار کے نصف سے زیادہ ہیں۔یہ رپورٹ اس وقت جاری کی گئی ہے جب سعودی عرب 2026 میں وژن 2030 کے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ایک ہزار 290 انیشیٹیو میں سے 225 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مزید 935 درست میں آگے بڑھ رہے ہیں، 390 میں سے تقریباً 309 انڈیکیٹرز نے اپنے عبوری اہداف حاصل کرلیے جس کے نتیجے میں تکمیل کی شرح 93 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وژن ایک سٹریٹجک فریم ورک ہے جو 2016 میں سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانے، تیل پر انحصار کم کرنے اور معاشرے کو جدید بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حقیقی جی ڈی پی 2025 میں 1.3 ٹریلین ریال تک پہنچ گئی جو سال کے ہدف سے زیادہ رہی،نان آئل سرگرمیاں اب حقیقی جی ڈی پی
کا 55 فیصد جبکہ نجی شعبے کا حصہ 51 فیصد ہے جو زیادہ پائیدار معیشت کی طرف اہم ساختی تبدیلی کی نشاندہی ہے۔2025 میں حقیقی جی ڈی پی میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا جس کی سپورٹ نان آئل سیکٹر میں مسلسل توسیع اور اوپیک پلس کی پابندیوں میں نرمی سے تیل کی پیداوار میں اضافے سے ہوئی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سعودی عرب میں حالیہ برسوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جسے ان اصلاحات کی سپورٹ ہے جس نے مارکیٹ کو مزید کھولا اور ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنا یا ۔غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 2017 کے مقابلے میں 119 فیصد بڑھ کر 2025 میں 293.3 ارب ریال تک پہنچ گیا ہے،700 سے زیادہ بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے ریجنل ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں قائم کیے جبکہ 2021 میں یہ تعداد 44 تھی۔پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اثاثے وژن کے آغاز کے بعد سے تقریباً پانچ گنا بڑھ کر 192 ارب ڈالر سے 909.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔سعودی فنڈ نے 2018 سے اب تک تقریباً ایک ملین ملازمتیں پیدا کی ہیں جبکہ فنڈ کے منصوبوں میں مقامی مواد کا تخمینہ 60 فیصد تک پہنچ گیا۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی تعداد 1.7 ملین سے تجاوز کر گئی ہے جو 8.8 ملین افراد کو روزگار فراہم کرتے اور جی ڈی پی میں 22.9 فیصد حصہ ڈالتے ہیں،ان میں 48 فیصد کمرشل رجسٹریشن خواتین کی ملکیت ہیں۔ سعودی خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح 22.8 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 35 فیصد ہو گئی، مڈل اور سینئر انتظامی عہدوں پر خواتین کا تناسب 43.9 فیصد ہے۔سماجی ترقی اور معیار زندگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، سعودی خاندانوں میں مکانات کی ملکیت کی شرح 66.24 فیصد تک پہنچ گئی جو وژن 2030 کے آغاز کے وقت 47 فیصد تھی، ہیلتھ کیئر کوریج 97.5 فیصد تک ہو گئی، اوسط عمر 2030 کے ہدف کے مطابق 80 برس کے قریب پہنچ رہی ہے۔بیرون ملک سے عمرہ کرنے والوں کی تعداد 18 ملین سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ یہ تعداد 2016 میں 6.2 ملین تھی، حرمین ہائی سپیڈ ٹرین نے 9.6 ملین مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔2025 میں سیاحوں کی تعداد 123 ملین تک پہنچ گئی جبکہ سیاحوں کے اخراجات ریکارڈ 304 ارب ریال رہے۔ریاض سیزن میں ریکارڈ 17 ملین سے زیادہ وزیٹرزنے شرکت کی جبکہ ریڈ سی منزل نے اپنے ریزورٹس میں تقریباً 50 ہزار سیاحوں کا خیرمقدم کیا۔ رپورٹ کے مطابق رضاکارانہ خدمات میں ایک معیاری اضافہ دیکھنے میں آیا اور رضاکاروں کی تعداد 22 ہزار سے بڑھ کر 1.75 ملین سے زیادہ ہوگئی جو 2030 کے ہدف سے زیادہ ہے۔بڑی کمپنیوں میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری پروگرام کو نافذ کرنے کرنے والی کمپنیوں کی شرح 30 فیصد سے بڑھ کر 76.8 فیصد ہو گئی ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر منافع بحش شعبے کی جی ڈی پی میں شراکت 1.4فیصد ہوگئی جو پہلے 0.2 فیصد تھی۔تعلیم کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ 200 جامعات میں سعودی طلبہ کی تعداد دگنی ہوگئی جو 28 ہزار سے زیادہ ہے۔کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2025 میں سعودی عرب کی 22 جامعات نے اپنی جگہ بنائی جبکہ کنگ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز ٹاپ 100 میں شامل ہے۔بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب نے بین الاقوامی انڈیکس میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کی اور سائبر سکیورٹی انڈیکس میں دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔
