یروشلم ( انٹرنیشنل نیوز) ایران سے جنگ شروع ہوئی ہے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں بسنے والوں کی زندگی بدل چکی ہے۔ وہاں دو طرح کے لوگ زندگی گزار رہے ہیں ایک وہ جو مستقل محفوظ پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں دوسرے جو اپنے گھروں میں ہیں لیکن سکون کی نیند کو ترس گئے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے اس پر ایک فیچر اسٹوری کی جس کا ترجمہ یہاں پیش کررہا ہوں ۔ انگریزی کا لنک بھی پیسٹ کردیا ہے جس میں تصاویر بھی ہیں۔تل ابیب میں روز راکٹ اور میزائل برستے ہیں اس میں آبادی کا کچھ حصہ زیر زمین شیلٹرز میں رہنے پر مجبور ہے تو باقی حصہ اپنے گھروں میں مقید ہے ۔ جو لوگ زیرِ زمین نہیں رہ رہے، ان کی زندگی مسلسل میزائل سے متاثر ہوئی ہے۔منگل 24مارچ تک تل ابیب کے 400 سے زائد رہائشی اپنے گھروں میں رہنے
کے قابل نہیں تھے کیونکہ ان کی عمارتیں تباہ ہو چکی تھیں۔پیر کے دن راکٹ بمکوں میں وقفہ تھا تو تل ابیب کے لوگوں نے بتایا کہ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے سونے کے لیئے پہلی پوری رات ملی ہےجب سے جنگ شروع ہوئی ہے تل ابیب کا شہری کبھی سکون سے سو نہیں پایا رات کو حملے سائرن سے کئی بار اٹھ کر شیلٹرز کی طرف بھاگنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات تو رات میں تین سے چار بار الرٹس آتے ہیںجس سے لوگ، بقول ایک رہائشی کے، تل ابیب کے لوگ زومبیوں کی طرح چلتے نظر آتے ہیںتل ابیب کے ڈیزنگوف سینٹر مال میں جیولری بیچنے والی انبال وین کہتی ہیں جنگ کے آغاز کے مقابلے میں اب حالات کچھ بہتر ہیں، لیکن
سائرن نہ بھی ہوں تو بھی نیند پوری نہیں ہوتی کیونکہ جسم آدھا جاگنے اور آدھا سونے کی کیفیت (اسٹیٹ آف الرٹ) کا عادی ہو چکا ہے۔وہ ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے دن میں کافی اور رات میں تھوڑی الکحل کا سہارا لیتی ہیں۔جنگ کی وجہ سے مال میں خریداروں کی تعداد آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ عزرائیلی سینٹر مال میں جوتوں کی دکان پر کام کرنے والی نکول کہتی ہیں کہ لوگ اب صرف بنیادی ضرورت کی اشیاء خرید رہے ہیں۔ ان کے بقول، بہت سے لوگ صرف گھر سے باہر نکلنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔باہر تل ابیب کی سڑکوں پر ٹریفک غیر معمولی طور پر کم ہے، حکومت نے لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز
کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سارونا جیسے کاروباری اور تفریحی مرکز میں، جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں موجود ہیں، زندگی جیسے تھم سی گئی ہے۔ٹیکس اتھارٹی کے ملازم سرگئی واسیوتین کہتے ہیں کہ ان کے دفتر میں جہاں سو لوگ ہوتے تھے، اب صرف 10 یا 12 آ رہے ہیں۔انہوں نے اپنے تین سالہ بچے کو سائرن بجنے پر ماماد یعنی محفوظ کمرے میں جانے کی تربیت دے دی ہے، لیکن وہ کہتے ہیں، کوئی بھی سو نہیں پا رہا، بس یہی جنگی روٹین ہے جس کے ہم اب عادی ہو چکے ہیں۔ تل ابیب کے اس مشہور ڈیزنگوف سینٹر مال کے زیرِ زمین پارکنگ لاٹ اب خیمہ بستی بن چکی ہےپارکنگ کے لیول 2- اور 3- پر کھڑی گاڑیوں سے گزر کر جب آپ لیول 4- پر پہنچتے ہیں، تو وہاں مدھم روشنی میں بسی خیمہ بستی نظر آتی ہے۔ یہاں درجنوں رنگ برنگے کیمپنگ ٹینٹ ان لوگوں نے لگا رکھے ہیں جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے مستقل طور پر یہاں رہ رہے ہیں۔اگرچہ بہت سے اسرائیلی گھروں میں مضبوط محفوظ کمرے (Safe Rooms) موجود ہیں، لیکن ہزاروں پرانے اپارٹمنٹس اور عمارتوں میں پناہ گاہوں تک آسان رسائی میسر نہیں۔ کچھ رہائشیوں کے لیے میزائل سائرن کے دوران بار بار دوڑنے سے بچنے کا واحد حل یہی تھا کہ وہ مکمل طور پر یہاں
منتقل ہو جائیں—یوں عوامی بم پناہ گاہیں عارضی گھروں میں بدل گئی ہیں۔پناہ گاہوں کی یہ ضرورت محض مفروضہ نہیں ہے کیونکہ شہر پر تقریباً روزانہ حملے ہو رہے ہیں۔صرف منگل کی صبح ایک ایرانی میزائل حملے میں چار افراد زخمی ہوئے اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔35 سالہ گال، جو گزشتہ ہفتے ڈیزنگوف پناہ گاہ میں منتقل ہوئی تھیں، کہتی ہیں میں آن لائن کلاسز پڑھاتی ہوں، اور ہر سائرنپر بیچ میں رک جانا میری زندگی اور کام کو درہم برہم کر رہا تھا۔ یہاں رہنے سے میری زندگی آسان ہوگئی ہے،گال وہاں اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک چھوٹی لکڑی کی میز پر بیٹھی مال کے ایک وینڈر کا بچا ہوا کھانا گرم کر کے کھا رہی تھیں۔ وہاں نہائے بغیر پسینے کی بو فضا میں بوجھل پن پیدا کر رہی تھی۔گال نے بتایا، یہاں زیادہ تر لوگ اچھے ہیں، لیکن کبھی کبھار لوگ آپس میں لڑ جاتے ہیں ۔ یہاں آپ کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے۔گزشتہ چند دنوں میں گال نے اپنے دوستوں کے گھروں، ساحلِ سمندر اور ایک بار تو ایک اجنبی کے گھر پر غسل کیا جس نے مدد کی پیشکش کی تھی۔ وہ کہتی ہیں اگر میں پوری رات یہاں سکون سے سو سکوں، تو میں اسی کو ترجیح دیتی ہوں۔جب سے اسرائیل اور امریکہ نے تین ہفتے قبل ایران کے فوجی ڈھانچے پر حملے شروع کیے ہیں، لاکھوں اسرائیلیوں کو اسلامی حکومت کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں سے بچنے کے لیے روزانہ پناہ گاہوں کی طرف بھاگنا پڑ رہا ہے۔تل ابیب کی میونسپل کونسل کے رکن نوح ایفرون کے مطابق، ڈیزنگوف، ہبیما اسکوائر اور باسل اسکوائر جیسی بڑی زیرِ زمین پناہ گاہیں جنگ کے وقت ہزاروں لوگوں کی گنجائش کے لیے بنائی گئی ہیں۔
یہ اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں جس میں شہر بھر کے اسکولوں اور نجی عمارتوں میں سیکڑوں چھوٹی پناہ گاہیں شامل ہیں۔
ایفرون نے بتایا کہ جنگ کے دوران تل ابیب کی انتظامیہ بہت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ سٹی ہال میں میئر رون ہلدائی اور درجنوں سرکاری ملازمین روزانہ دو بار ایک وار روم میں ملاقات کرتے ہیں تاکہ رہائشیوں اور سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
مقصد یہ ہے کہ رہائشیوں کو وہ چیزیں فراہم کی جائیں جن سے وہ پناہ گاہوں میں بھی نارمل زندگی گزار سکیں۔ ایفرون خود بھی شہر کے مرکز میں اپنے گھر کے قریب ایک عوامی پناہ گاہ میں ہر رات سوتے ہیں۔
سدیروت کے قریب رہنے والے وکیل اتامر تاباکوف کہتے ہیں، وہ بس اب یہی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو جائے اور ہم دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
رپورٹ ٹائمز آف اسرائیل
