اوٹاوا۔( نمائندہ خصوصی):کینیڈا میں مقیم سکھ کارکن اور سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے چیئرمین مونیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے نئی دھمکیوں کے باوجود خالصتان مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اردو نیوز کے مطابق انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے یورپین ہیڈکوارٹر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب انہیں جان سے مارنے کی دھمکیوں کا علم ہوا تو انہوں نے پھر بھی خالصتان مشن پر اپنا کام جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خاموش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے بیرون ملک مقیم سکھ کارکنوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کی اپیل کی۔سکھ
کارکن الزام عائد کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے دنیا بھر میں سکھوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے لیے جرائم پیشہ گروہوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس معاملے میں سب سے مشہور کیس مونیندر سنگھ کے دوست ہردیپ سنگھ نجر کا ہے جنہیں 2023 میں وینکوور کے مضافاتی علاقے میں ایک گوردوارے کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس میں ملوث ہے جس کے بعد یہی الزام کینیڈین حفیہ اداروں نے بھی دہرایا۔ بعدازاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو گئے اور دونوں ممالک کی جانب سے دوسرے ملک کے سفارت کاروں کو 2024 میں ملک سے نکالا گیا۔گزشتہ سال وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے مارک کارنی کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی، انہوں نے بھارت کا دورہ بھی کیا اور کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ 44 سالہ کینیڈین شہری مونیندر سنگھ نے کہا کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے سفارتی تعلقات کو اتنی جلدی بغیر کسی تبدیلی کے معمول پر لانا انتہائی پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت جا کر ان لوگوں سے مصافحہ کر رہے ہیں جن کے ہاتھ کینیڈینز کے خون سے آلودہ ہیں۔ ہردیپ سنگھ نجر کی طرح مونیندر سنگھ بھی آزاد سکھ ریاست کی وکالت والے گروپ کا حصہ ہیں جس کو خالصتان کہا جاتا ہے۔ ہردیپ سنگھ نجر کے مارے جانے سے ایک سال قبل کینیڈا کے حکام نے ان کے علاوہ مونیندر سنگھ کو بھی خطرات سے آگاہ کیا تھا۔
