تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے پہلی بار اپنا سب سے طاقتور اور خطرناک "حاج قاسم” بیلسٹک میزائل میدانِ جنگ میں اتار دیا ہے۔ یہ میزائل کیوں اتنا مہلک ہے اور اس نے کیسے دفاعی نظاموں کو ناکام بنایا؟ آئیے جانتے ہیں:1. حاج قاسم میزائل: ایک مہلک ہتھیاریہ میزائل ایران کی "شہید حاج قاسم” سیریز کا حصہ ہے، جسے خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 1,400 کلومیٹر ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ تہران سے بیٹھ کر براہِ راست اسرائیل کے کسی
بھی کونے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔2. آئرن ڈوم (Iron Dome) کو چکمہ دینے کی صلاحیتسب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ میزائل جدید دفاعی نظاموں سے کیسے بچ نکلتا ہے؟تیز رفتار (High Speed): اس کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ ریڈار کو اسے ٹریس کرنے اور انٹرسیپٹ (راستے میں روکنے) کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔مینوور ایبلٹی (Maneuverability): یہ میزائل فضا میں اپنا راستہ
بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کے اینٹی میزائل سسٹم (جیسے آئرن ڈوم یا ایرو) اس کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے۔وار ہیڈ: اس کا سر (Warhead) تقریباً 500 کلوگرام وزنی بارود لے جا سکتا ہے، جو کسی بھی بنکر یا فوجی اڈے کو ملبے کا ڈھیر بنانے کے لیے کافی ہے۔3. حملے کی اہمیت اور وقت ایران نے اس میزائل کو ایک ایسے وقت میں استعمال کیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اس ہتھیار کا پہلی بار استعمال یہ پیغام دیتا ہے کہ اب جنگ روایتی طریقوں سے نکل کر جدید ترین
ٹیکنالوجی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔4. کیا یہ گیم چینجر ثابت ہوگا؟دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ "حاج قاسم” میزائل کا استعمال مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ اس کی درستگی (Precision) اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت اسے دنیا کے خطرناک ترین بیلسٹک میزائلوں کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔
