میلان( مانیٹرنگ ڈیسک)یورپ کے بندرگاہی مزدوروں نے اسرائیل کو وارننگ دے دی ہے کہ اگر اُس نے ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ کے قریب آنے کی کوشش بھی کی تو سمندر کو ایک عظیم دیو ہیکل دیوارِ حائل میں بدل دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر تل ابیب نے اس قافلے کی طرف ایک انچ بھی پیش قدمی کی تو یہ مزدور اُس کے ساتھ کیا کریں گے؟یہ اعلان محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ یورپی مزدور تحریک کی سنجیدہ دھمکی ہے۔ ماضی میں بھی یونان، اٹلی، اسپین اور دیگر ممالک کے ڈوک ورکرز نے اسرائیلی
جہازوں کا بائیکاٹ کیا تھا، یہاں تک کہ کئی دنوں تک صہیونی کارگو یورپی ساحلوں پر رُکے پڑے رہے۔ اب صورت حال اس سے زیادہ نازک اور پُرعزم ہے۔ فریڈم فلوٹیلا غزہ کے محصور عوام کے لیے زندگی کا قافلہ ہے، اور اگر اسرائیل اُس پر حملہ آور ہوا تو بندرگاہی مزدور پورے یورپ کے ساحلوں کو اُس کے خلاف مزاحمتی قلعہ بنا دیں گے۔’’سمندر کو دیوار میں بدل دینا‘‘ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اسرائیل کے جہاز یورپ کی کسی بندرگاہ تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، چاہے وہ تجارتی ہوں یا عسکری۔ مزدور اپنی طاقت سے پورے بحیرۂ روم کو ایسا محاصرہ بنا دیں گے جس سے تل ابیب کا سانس گھٹ جائے گا۔ یہ دباؤ اسرائیل کی اقتصادی شہ رگ پر کاری ضرب ہوگا کیونکہ اُس کی برآمدات اور درآمدات کا بڑا حصہ بحری راستوں کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر تل ابیب نے فریڈم فلوٹیلا کے قریب آنے کی غلطی کی تو اُس کا انجام یہی ہوگا کہ یورپی سمندر اُس کے لیے ایک ناقابلِ عبور قلعہ میں تبدیل ہو جائے گا، اور وہ عالمی برادری کے سامنے مزید رسوا ہوگا۔

