اسلام آباد۔( نمائندہ خصوصی):بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز واقعات اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متعدد ملکی اور بین الاقوامی مانیٹرنگ اداروں کی حالیہ رپورٹس میں انکشاف کیاگیاہے کہ بھارت میں نسلی امتیاز کے واقعات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا
ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتو ں کے ساتھ روا امتیازی سلوک نہ صرف سماجی ہم آہنگی بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث ہے۔20فروری کو دارلحکومت نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کو مبینہ طور پر نسل پرستی کانشانہ بنایاگیا۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر اوررواں سال جنوری میں میگھالیہ اور اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ دہلی
میں تاریخی طور پر ہر ماہ نسلی بنیادوں پر ہراسگی کی 15سے 20شکایات موصول ہوتی رہی ہیں، جس سے ملک کے شمال مشرقی شہریوں کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کی عکاسی ہوتی ہے۔انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار318واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ یہ تعداد2024میں ایک ہزار165اور 2023 میں صرف 668تھی۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے 98فیصد میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی
تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ورلڈ رپورٹ 2026 میں اقلیتوں کے خلاف ظلم تشدد اور بلڈوزرکے ذریعے انکی املاک مسمار کرنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔گزشتہ سال مئی اور جون کے دوران مبینہ طور پرایک ہزار500سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور روہنگیا افراد کو بھارت سے بے دخل کیا گیا۔ریاست آسام میں 2021سے اب تک 50ہزارسے زیادہ افراد کی بے دخلی کی اطلاعات ہیں، جن میں اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہیں جبکہ ایک حالیہ مہم کے دوران تقریبا 3ہزار400سے زائد مکانات کو مسمار کیاگیا ہے ۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ہجوم کے تشدد، تبدیلی مذہب کے خلاف امتیازی
قوانین اور شہریت سے متعلق پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کو خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی سفارش کی تھی۔او ایم سی ٹی گلوبل ٹارچر انڈیکس کے مطابق بھارت میں 2024کے دوران 2ہزار739افراد کودوران حراست قتل کیاگیا جبکہ 2023میں یہ تعداد تقریبا 2ہزار400تھی۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے 2023کے اعداد و شمار کے مطابق پسماندہ طبقات کے خلاف 57ہزار789اور شیڈول ٹرائبز کے خلاف 12ہزار960سے زائد جرائم کے واقعات رجسٹر کئے گئے تاہم ان میں ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ،امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی
آزادی ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹس کے مطابق ان شواہد سے مجموعی طورپر اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بھارت میں قانونی، انتظامی اور سماجی سطح پر دبائوغیر متناسب طور پر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا نفرت انگیز سلوک کی روک تھام کیلئے موثر پالیسی اقدامات، شفاف تحقیقات اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
