لندن(نمائندہ خصوصی):برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی شہری اپنی کمیونٹی والوں کو نوکریاں دلوانے کے لئے جعلسازی کرتے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی نیٹ ورکس خفیہ انٹرویو کے سوالات ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں۔ گوگل کے سابق کنٹریکٹر کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ امریکی ٹیک ورکرز کی ملازمتیں بھارت منتقل ہورہی ہیں۔سابق گوگل کنٹریکٹر اسٹیون ایجنگٹن کا کہنا ہے کہ ہمیں
اپنی جگہ آنے والے ملازمین کو ٹریننگ دینے پر مجبور کیا گیا، بھارتی ملازم بھرتی ہو تو وہ خفیہ انٹرویو کے سوالات دیگر بھارتیوں سے شیئر کرتا ہے۔واضح رہے کہ رواں سال بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی ایچ ون بی ویزا دینے کے انکشافات بھی سامنے آئے تھے۔امریکی سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز کی ڈائریکٹر جیسیکاوان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قرار دیاتھا۔ڈائریکٹر سی آئی ایس نے کہا تھاکہ امریکہ بھجوانے کے لیے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں، بھارت میں یومیہ 200 سے زائد ’ایچ ون بی ویزا‘ جاری کیے جا رہے ہیں جن میں 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی شہری فقط ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں ڈگری سے متعلق کوئی علم نہیں ہوتا ہے۔بھارتی نڑاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی نے بھی چنئی کے قونصل خانے کو دنیا کا سب سے بڑا ایچ ون بی ویزا فراڈ کا مرکز قرار دیا۔

