نئی دہلی( نمائندہ خصوصی):بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) کے ایک ایئر مارشل کو عصمت دری کے سنگین الزامات کا سامنا ہے، جس سے بھارتی فضائیہ میں نظامی سطح پر خواتین کے استحصال اور سینئر افسروں کو بچانے کے کلچر پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق الزامات کے باوجود سینئر افسر کو قبل از گرفتاری ضمانت دی گئی ہے، جس پر شدیدتنقید کی جا رہی ہے اور یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ انصاف کے بجائے افسر کو بچانے کی کوشش ہے۔متاثرہ خاتون کو پولیس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایئر فورس نے
اپنی ہی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیں ۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی فوج کے افسران کو کسی قانون ، نظم وضبط اور اخلاقات کا پاس و لحاظ نہیں ہے ،خواتین کی بے حرمتی ان کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے انہیں اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کہ افسران بالا کی طرف سے انہیں پورا تحفظ میسر ہو گا اور وہ قانون کی گرفت میں ہرگز نہیں آئیں گے ۔ستمبر 2024ءمیں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے ضلع بڈگام میں بھی بھارتی ائیر فورس کے ایک ونگ کمانڈر پر ایک جونیئر خاتون افسر نے عصمت دری اور ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد پولیس نے ایف آئی آردرج کی تھی تاہم آج تک پتہ نہیں چلا کہ معاملے کا کیا بنا ، آیا اس خاتون افسر کو انصاف ملا یا نہیں۔قبل ازیں 2021ءمیں بھی ایک فلائٹ لیفٹیننٹ پر ساتھی خاتون افسر کی عصمت دری کا الزام لگا تھا، جس میں تحقیقات پر اثر انداز ہونے جیسے سنگین انکشافات سامنے آئے تھے۔ یہ تمام واقعات اس بات کا غماز ہیں کہ بھارتی فوج میں خواتین اہلکار اپنے ہی آفیسرز سے غیر محفوظ ہیں، بھارتی فوج کے افسران کا غیر اخلاقی چہرہ بے نقاب چکا ہے۔تقریباً تین برس قبل بھارتی خاتون افسر لیفٹیننٹ کرنل گوری مشرا نے ساتھی افسر لیفٹیننٹ کرنل دیویش مکھرجی کے خلاف ریپ کا سنگین الزام لگایا تھا، خاتون افسر نے بتایا تھا کہ انکی غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی گئیں اور پھر بلیک میل کیا گیا۔ دسمبر 2016 میں جنسی ہراسگی کا شکار بھارتی فوج کی میجر انیتا کماری نے گولی مار کر خودکشی کی تھی۔بھارتی فوج کے بیرونی ممالک میں جنسی استحصال اور بد اخلاقی کے قصے بھی ڈھکے چھپے نہیں، کانگو میں امن مشن پر مامور بھارتی فوجی جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ، 3 بھارتی پیس کیپرز کو سائوتھ افریقہ میں خاتون کے ریپ پر جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔
