اسلام آباد(انٹرنیشنل ڈیسک):مودی سرکار نے بھارتی معیشت اور انتظامی مشینری کا بھٹہ بٹھانے کے بعد عالمی سطح پر بھی اپنی نااہلی اور ناکامی ثابت کردی۔رائٹرز کے مطابق بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ33) 2028 کی میزبانی کی پیشکش واپس لے لی.بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ فیصلہ ایک یوٹرن ثابت
ہوا کیونکہ مودی نے 2023 میں دوبئی میں منعقدہ کانفرنس میں2028 کانفرنس کی میزبانی کیلئے خود پیشکش کی تھی۔یہ فیصلہ صرف ایک ایونٹ کی منسوخی تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی ساکھ کیلئے بھی بڑا دھچکا ہے،بھارت پہلے ہی2035 کے لیے بھی اپنے قومی ماحولیاتی اہداف جمع کرانے کی 2 ڈیڈلائنزکو نظر انداز کرچکا ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق کانفرنس کی میزبانی سے دستبردار ہونا موسمیاتی بہتری کے اقدامات اور گلوبل ساوتھ کے بھارتی دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے،بھارت کا یہ فیصلہ اس کی ماحولیاتی ذمہ داریوں اور اقدامات کے درمیان فرق پر بحث سے بچنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔واضح رہے کہ دہلی اپنی فضائی آلودگی کے باعث دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست اورخطے بھرکے ماحول کو بھی نقصان پہنچارہا ہے۔
