شنگھائی (شِنہوا) دنیا کی پہلی بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم کے قیام کا اعلان شنگھائی میں جمعہ کے روز مصنوعی ذہانت کی گورننس سے متعلق ایک اہم کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس کا مقصد سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز سے نمٹنا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی تعاون تنظیم (ڈبلیو اے آئی سی او) کا قیام گلوبل ساؤتھ کی آواز پر لبیک کہنے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی
اور گورننس کو آگے بڑھانے کے لئے بین الاقوامی برادری کو متحد کرنے کی جانب چین کا ایک اہم اقدام ہے۔صدر شی نے 2026 کی عالمی اے آئی کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی گورننس کے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔‘‘تقریب کے مقررین کے مطابق ڈبلیو اے آئی سی او کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب مصنوعی ذہانت عالمی اقتصادی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھری ہے جبکہ انسانیت اے آئی کے حوالے سے سکیورٹی اور اخلاقی چیلنجز سے نبردآزما اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بڑھتا فرق ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔تنظیم کے قیام کے معاہدے کے مطابق شنگھائی میں قائم اس ادارے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مصنوعی ذہانت مفید، محفوظ اور منصفانہ ہو اور پوری انسانیت کے مفاد میں کام کرے۔29 ملکوں کے نمائندوں نے اس معاہدے پر دستخط کئے اور یہ
ممالک ڈبلیو اے آئی سی او کے بانی رکن بن گئے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے چینی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کئے۔ دیگر ممالک میں قازقستان، لاؤس، پاکستان، روس اور انڈونیشیا شامل ہیں۔تنظیم کے قیام کو وسیع پیمانے پر ایک ٹھوس قدم قرار دیا جا رہا ہے جو چین نے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر ایک منصفانہ اور مساوی اے آئی گورننس کا ڈھانچہ تشکیل دینے اور مصنوعی ذہانت کو ایک ایسا بین الاقوامی عوامی اثاثہ بنانے کے لئے اٹھایا ہے جو سب کے لئے فائدہ مند ہو۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو اے آئی سی او کا قی2023میں صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ عالمی مصنوعی ذہانت گورننس اقدام کا ایک "فطری تسلسل” ہے۔

