بیجنگ(انٹرنیشنل ڈیسک):چینی اور جاپانی سائنسدانوں نے خلا میں موجود پراسرار زرات بارے اہم دریافت کا دعویٰ کیا ہے۔ شنہوا کے مطابق چین کے جنوب مغربی خود مختار علاقے شی زانگ میں قائم رصد گاہ نے سائنسدانوں کو ہماری کہکشاں پر حکمرانی کرنے والی غیر مرئی قوتوں کا ایک بے مثال نظارہ فراہم کیا ہے۔رصد گاہ نے پہلی بار خلا میں انتہائی چھوٹے پیمانے پرمقناطیسی ہلچل کی کامیابی سے پیمائش کی ہے، جس سے کائناتی شعائوں کے کہکشاں میں سفربارے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔یہ تحقیق سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں حال ہی میں شائع ہوئی ہے اور یہ زمین سے تقریباً 800 نوری سال کے فاصلے پرواقع ایک مردہ ستارے گیمنگا جو پلسر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر مرکوز ہے۔ تجربے کے دوران چینی اور جاپانی سائنس دانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے ایک بڑے ڈیٹیکٹر کا استعمال کرتے ہوئے اس پلسر کے ارد گرد موجود ہائی انرجی لائٹ کے ہالہ کا مطالعہ کیا۔
انہوں نے 100 ٹیرا الیکٹران وولٹ (TeV) سے زیادہ توانائیوں کے ساتھ گاما شعاعوں کا مشاہدہ کیا جو انسانی ساختہ پارٹیکل ایکسلریٹر کے ذریعہ تیار کردہ کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائی انرجی فزکس (IHEP) کے پروفیسر ہوانگ جِنگ نے کہا کہ یہ تحقیق پہلا براہِ راست ثبوت فراہم کرتی ہے کہ گیمنگا پلسر ونڈ نیبولا الیکٹران کو صرف 100 ٹیرا الیکڑان وولٹس(TeV) کی ایک مخصوص توانائی کی حد تک تیز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیم نے یہ پیمائش کی کہ یہ ذرات خلا میں کیسے پھیلتے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ گیمنگا ہالو کے آس پاس کے علاقے میں، ذرہ کا پھیلاؤ حیرت انگیز طور پر سست ہے۔ کائناتی شعاعیں باقی کہکشاں میں صرف ایک فیصد کارکردگی کے ساتھ اس علاقے سے گزر رہی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ذرات کا سامنا کسی کائناتی "اسپیڈ بمپ” یا کسی گھنی دھند سے ہو رہا ہے جو ان کی رفتارکو سست کر دیتا ہے۔مزید برآں، پہلی بار، سائنس دان ناقابل یقین حد تک چھوٹے پیمانے پر مقناطیسی میدانوں کی ہلچل کی پیمائش کرنے کے قابل ہوئے۔ایک پارسیک (تقریباً 3.3 نوری سال) سے بھی کم۔ انہوں نے پایا کہ یہ ہلچل ایک مخصوص پیٹرن کی پیروی کرتی ہے، جسے کولموگوروف قسم کی اسکیلنگ کہا جاتا ہے، جو کافی کے ہلائے ہوئے کپ میں یا ماحول کے موسمی نمونوں میں توانائی کی حرکت سے مشابہ ہے۔ہوانگ نے کہا کہ "یہ پہلی تجرباتی تصدیق ہے کہ خلا میں اس طرح کے چھوٹے پیمانے پر مقناطیسی ہلچل موجود ہے۔ تحقیق کے نتائج کائناتی شعاعوں کو سمجھنے میں ایک اہم قدم ہیں۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائی انرجی فزکس کے ایک پروفیسر بی شیائوجن نے کہا کہ اس بات کا مطالعہ کرکے کہ وہ گیمنگا جیسی اشیاء کے گرد کیسے پھنسے اور سست ہوتے ہیں، سائنسدان خلا کے پیچیدہ "موسم” اور ہمارے کہکشاں کے پڑوس کی شکل دینے والے مقناطیسی میدانوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ہائی انرجی فزکس کے ماہر فانگ کن کا کہنا ہے کہ اس مشاہدے کی کامیابی کائنات میں کائناتی شعاعوں کے پھیلاؤ اور مقناطیسی میدان کی حرکیات کو سمجھنے کے لیے نئے دروازے کھولتی ہے۔ ان نتائج سے مستقبل میں ملٹی میسنجر اور ہائی انرجی گاما رے اسٹڈیز کے لیے دور رس اثرات کی توقع ہے ۔
