جب ماریہ نے اپنی کتاب مہوشاں مجھے عنایت کی تو سرسری جائزہ لینے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ کتاب 80 گرام کے پیپر پر شائع کی گئی ہے سرورق بہت دلکش اور جاذب نظر ہے، اس کتاب میں نثری نظموں کے ساتھ کچھ مختصر افسانچے نما تحریریں بھی ہیں جسے شاعرہ اختراعات کہتی ہیں۔ اس سرسری جائزے کے دوران جس چیز نے مجھے چونکایا وہ نظموں کے عنوانات اور اسلوب تھا، اور میں نے سوچا کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے، عمومی طور پر میں مطالعہ چور ہوں، کتاب کی ورک گردانی کرنے پر اور کچھ صفحات پڑھ کر ایک خوشگوار سا احساس ہوا اور سوچنے لگا کہ اگر انسان کے پاس حساس ذہن ہو، مشاہدے کی قوت ہو اور وہ اپنے ان احساسات کرنے پر ڈھنگ بھی جانتا ہو تو تحریر کا رنگ و آہن کتنا مختلف ہوسکتا ہے۔
دست و فسکی کا کہنا ہے کہ اچھی تحریری وہ ہوتی ہے جس کو پڑھ کر قاری چونک پڑے، حتی کہ لکھنے والے کو گالی دینے کا بھی دل چاہے جبکہ سارتر کہتا ہے کہ تخلیق کار کو حق ہے کہ وہ حد سے گزر جائے، میرا اپنا ماننا بھی کچھ ایسا ہی ہے اور ماریہ کی تحریریں ان دونوں معیارات کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ ماریہ کی شاعری میں جس چیز مجھے متاثر کیا وہ یہ ہے کہ ماریہ مقلد ہرگز نہیں اور شاید ہی نہ کسی سے متاثر، جس کسی نے اچھی بات لکھی اور ماریہ کے ذہن سے مطابقت رکھتی ہو تو ماریہ اسے قبول کرلیتی ہے، لیکن اگر کسی کا لکھا ہوا اس کی سوچوں سے لگا نہیں کھاتا تو اسے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، یہ میرا قیاس ہے اور اس قیاس کا باعث ماریہ کی نظمیں ہیں۔ وہ اپنی سوچوں کو قاری یا معاشرے کی خوشنودی کی بھینٹ نہیں چڑھاتی، اور ان کا برلا اظہار کردیتی ہے، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ ماریہ میں جرأت اظہار بدرجہ اُتم موجود ہے، ماریہ زبان کا استعمال اپنی مرضی سے کرتی ہے، جذیات کے استعمال سے اجتناب برتتی ہے، شاید اس لئے کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ
قاری ان جذیات سے واقف ہے، لیکن کبھی کبھار عدم جذیات تحریر کو مبہم بھی کرسکتی ہے، کسی صاحب نے ماریہ کی تحریروں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ الفاظ کا استعمال بڑی کفایت سے کرتی ہے، ماریہ کی سوچ کسی ایک خاص موزوں تک محدود نہیں، بلکہ اس میں تنوع وافر مقدار میں موجود ہے، ماریہ کی شاعری نہ تو رومانوی ہے یا موضوعاتی وہ نہ تو قاری کو سبز باغ دکھاتی ہے بلکہ کڑوے سچ سے آشنا کراتی ہے، اس کی شاعری اس کی سوچ کی امانت ہے، جس میں خیانت ماریہ کو ہرگز پسند نہیں۔ ماریہ کی نظموں کے عنوانات بھی خاصے کی چیز ہیں۔ مثال کے طور پر
٭ زندگی سے رخصت کی درخواست
٭ سوگوار عید
٭ آغاز کا چکر
٭ دعا اور فون
٭ اگر مگر چنانچہ چونکہ
٭ بد دعا
٭ روحوں کا قیام
٭ امان کی اکشا
٭ محبت فراغت
اب چلتے ہیں ماریہ کے اسلوب کی طرف جوکہ منفرد ہے، بیشتر نظموں کی زبان سادہ ہے اور آسانی سے قاری کی رسائی آجاتی ہے، لیکن کچھ نظموں میں علامات اور استعاروں کا استعمال کافی زیادہ ہے، جو اس تحریر کو ایکسٹرا پینٹنگ کے روپ میں بدل دیتی ہے، اس قسم کی تحریروں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہر شخص اس کی تشریح اور توضیع اپنے حوالوں کی مدد سے کرتے ہیں جو بسا اوقات بے حد تضادات کا شکار ہوتے ہیں اور یوں میں تخلیق کار کی مہارت کی داد دینے پر مجبور ہوں۔ ماریہ کا اسلوب منفرد اور غیر روایتی ہے، اس نے اپنی نظموں میں … بے دریغ استعمال کیا ہے، شاید اپنی نظموں کی بلاغت میں اضافے کیلئے، لیکن میری دانست میں کہیں کہیں یہ … تحریر کو بوجھل کردیتے ہیں یہ میری رائے ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ تخلیق کار کا استحقاق ہے کہ وہ اظہار ذات کیلئے زبان کا استعمال جیسے چاہے کرے، ایک اور بات کہ ماریہ کی نظموں میں غیر مانوس تراکیب کا استعمال کافی ہے، میں نہیں جانتا کہ یہ شعوری ہے یا لاشعوری، میرا گمان ہے کہ یہ لاشعوری ہے، ان غیر مانوس تراکیب کی چند مثال درج ذیل ہے
٭ بات کا آنکھ میں رکنا
٭ خواب بن کر آنکھ میں سلگنا
٭ موت کے لمحے کا قیام کرنا
٭ حواس کے دائرے
٭ نارسائی کا دھوکا
٭ دل پہ گراہ لگنا
٭ دن کی چکا چوند چاندی
٭ سفید بھک روشنی
٭ نقارہ کرتی عید سعید
٭ سنہرا رنگ ساند لینا
٭ خوابوں کا دھرے رہنا
٭ خواب پہن لینا
٭ خود یک لخت آسمان سے بہنا
٭ عذاب کا لٹ جانا
٭ دلدل میں نیزہ اتارنا
٭ لمحوں کا عمر کی پہاڑی سے لڑھکنا
٭ بچپن اتارنا
٭ عورت پہن لینا
٭ ضد کا لگانا
ماریہ نئی نسل کی سوچوں کی نمائندہ شاعرہ ہے وہ بزرگوں اور روایتوں کا احترام تو کرتی ہے لیکن انہیں مشعل راہ نہیں بناتی، وہ جو کچھ اپنے گرد و پیش دیکھتی ہے، محسوس کرتی ہے اس کا اظہار بڑی جرأت سے کبھی سادہ الفاظ سے اور کبھی پیچیدگی سے لیکن دونوں صورتوں میں اظہار بہت خوبصورت ہوتا ہے، میں نہیں جانتا کہ نقاد ماریہ کی کاوشوں کو کیسے
جانچیں گے اس کا فیصلہ شاید وقت ہی کرے گا، میری نظر میں ماریہ کی شاعری انہیں سے مخصوص ہے، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ماریہ کا کتابی مطالعہ تو وسیع ہے ہی لیکن اس کا مشاہدہ، محسوسات اور ان کا اظہار بھی کمال کا ہے، مجھے گمان ہے کہ ماریہ چیزوں کو جس سطح سے دیکھتی ہے بہت کم لوگ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ماریہ نے اپنے اظہار کیلئے جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ اس کی تقلید بھی کارے دارد۔ میں ماریہ کو اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتا ہوں اور میری دلی خواہش ہے کہ اس نے شاعری کو جو نیا آہنگ دیا ہے اسے جاری و ساری رکھے اس سے پہلے کہ میں اپنے مضمون کا اختتام کروں، چاہوں گا ماریہ کی چند نظمیں آپ حضرات کے گوش گزار کرسکوں۔
’’زندگی سے رخصت کی درخواست‘‘
بخدمت جناب پروردگار
کل جہاں و کائنات
گزارش عرض ہے کہ
فدویہ زندگی سے فقط
دو دن کی رخصت چاہتی ہے
بوجہ شدید کرب
اپنی قبر میں دو دن
سوکر گزارنا چاہتی ہے
پروردگار…اگرچہ
میرا کرب اس ماں کے دکھ سے کہیں کم ہے
جو اپنی جوان اولاد کا لاشہ
دیکھ کر بھی …سانس لے رہی ہے
جانتی ہوں کہ میرے کرب کا بوجھ
کہیں کم ہے اس مزدور کے
شرمندہ اور بھاری قدموں سے
جو آج خالی ہاتھ گھر جارہا ہے
اس جوان لڑکی کے کرب سے بھی کوئی مقابلہ نہیں
جو جہیز کے انتظار میں
سر میں سفیدی بھررہی ہے
اگرچہ میرا کرب واقعی بہت کم ہے
اس بچے کے گرتے آنسوئوں سے
جو کم عمری میں ہی روٹی کمارہا ہے
اور اپنا بچپن گنوارہا ہے
میرے کرب کا کسی سے بھی مقابلہ نہیں
مگر … میرے پروردگار
میں لفظوں کی چوٹ سے
بہت تھک گئی ہوں
لفظوںکی چوٹ…… جو عورت ہونے کی سزا پہ ملی
اس لئے فقط دو دن کی رخصت درکار ہے
امید ہے آپ مدد کریں گے
اور میری واپسی پہ میرے لئے
کچھ نیا کریں گے
آپ کی فرمانبردار
٭٭٭
’’مہارت‘‘
اے برباد کرنے والے
تیری مہارت کو سلام
کیسی خوبصورتی سے تونے مجھے تراش کر
اسی خوبصورتی سے برباد کیا
ایسا برباد کیا کہ
مجھے میرے لئے بھی نہ چھوڑا
اب جو گنوں گی خود کو تو کہاں تک
اور سمیٹنا بھی چاہوں گی تو کیسے اور کہاں تک
٭٭٭
’’آوارہ خیال‘‘
میری نظروں کا بیتاب لمس……
تمہارے بدن کو پی رہا ہے
کیسی بے بسی ہے ہماری ……
ایک محفل میں ہوکر بھی
انجان …بننا…
اور نظر کو اوروں سے بچاکر……
چپکے سے تمہاری بلائیں لینا
مسحور کن لگتا ہے
کہ سب کے درمیان رہ کر
تم کو سب سے چھپانا
دھت…کیسا آوارہ خیال ہے نا
٭٭٭
’’انمول‘‘
انمول نہ تھی……
تمہارے دکھ نے کردیا ہے
٭٭٭
’’بلاعنوان ‘‘
سنولڑکی
درد اور کرب
کاجل سے لکھا کرو
آنسوئوں سے دھل جائیں گے
٭٭٭
’’کافی …اور وقت‘‘
دو کپ کافی …
تم ………میں
اور
بہت سا وقت
٭٭٭

