ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی مشاعروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کے روز قطر سے تشریف لائی معروف شاعرہ ثمرین ندیم ثمر نے اپنی رہائش گاہ پر ایک شام اور مشاعرے کا انعقاد کیا جس کی صدارت ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی اور نظامت کے فرائض تسنیم حسن نے انجام دیئے۔ مشاعرے میں برطانیہ، کینیڈا اور امریکا سے تشریف لائے شعرا اور شاعرات نے شرکت کی۔ سینئر شاعرہ، افسانہ نگار وناول نگار نجمہ عثمان، معروف شاعر منیف اشعر، فراست رضوی، سینئرشاعرہ رضیہ سبحان اور ڈاکٹر افتخارملک ایڈووکیٹ مہمانان خصوصی میں شامل تھے۔
صدارت خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ ثمرین ندیم ثمر کی شاعری ایک پختہ کار شاعرہ ہونے کا واضح ثبوت ہے ان کی شاعری نسائی ادب کی توانا آواز بن رہی ہے۔ شاداب احسانی نے مزید کہا ان کی شاعری میں موزوں الفاظ (وزن)، تخیل، جذبات کا اظہار اور فنی مہارت (عروض و بیان) شامل ہیں یہ تمام لوازمات مل کر ان کے کلام کو نغمگی اور گہرائی عطا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعر کے لیے وزن اور خیال کے سانچے کا ہونا ضروری ہے۔ ثمرین ندیم ثمر جذبات کی سچی تصویر کشی کرتی ہیں۔ نجمہ عثمان، منیف اشعر، فراست رضوی، رضیہ سبحان اور ڈاکٹر افتخار ملک ایڈووکیٹ نے ثمرین ندیم ثمر کو بہترین محفل منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی۔
نجمہ عثمان نے کہا کہ آج ہمیں احساس ہوا کہ کراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ کراچی میں جو لوگ رہتے ہیں وہ فرمائشیں بھی کرتے ہیں۔ انہیں کلام بھی یاد رہتا ہے ہم کبھی کھبی آتے ہیں تو انہیں ہمارا کلام بھی یاد نہیں رہتا۔ فراست رضوی نے گھروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں کو سراہاتے ہوئے کہا کہ ادب کی خدمت میں بیرون ملک مقیم شعرا کا اہم کردار ہے۔ تمام شعرا اپنی مٹی سے جوڑے ہیں اور بہترین ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ ثمرین ندیم ثمر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محفل کا انعقاد کرکے بہترین شعرا سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ مہمانان اعزازی میں حیدرجلیسی، نسیم نازش، ناہیدعزمی، تبسم رضوی، سلمی رضا سلمی، شازیہ عالم شازی، شاہین برلاس، سحرعلی، شاہدہ عروج، مسرور پیرزادو اور کامران مغل شامل تھے۔ تمام شعراکرام نے اپنا منتخب اور نئی غزلیں و نظمیں سنائیں۔ منیف اشعر نے اپنے جواں سال بیٹے سے منسوب شعرسناتے ہوئے آبیدہ ہوگئے۔ ناہید عزمی کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔ حیدر جلیسی نے شام کو اپنے قطعات سے زعفران زار بنا دیا۔
ثمرین ندیم ثمر نے تمام شعرا کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ مشاعرے سے قبل پُرتکلف ریفرشمنٹ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تقریب کے دوران چائے کا بھی دور چلتا رہا۔ آخر پر شعراکرام نے آپس میں کتابوں کا تبادلہ کیا اور یوں ایک اور شام یادیں سمیٹ کراختتام ہوگئی۔۔ یاد رہے ثمرین ندیم ثمر کی شاعری پر مشتمل دو کتابیں، خوشبوئے خیال اور آرزو کا دیا منظر عام پر آچکا ہے۔ ان کی منتخب شاعری کا سندھی زبان میں بھی ترجمہ شائع ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

