برطانیہ سے تشریف لائی ہوئی سینئر شاعرہ، افسانہ نگار و ناول نگار نجمہ عثمان نے اپنے دولت کدے پر نمائندہ خواتین شعرا کو مدعو کیا۔ جن میں پروفیسر رضیہ سبحان، افروز رضوی، سحرعلی، تسنیم حسن شامل ہیں ۔ لندن سے تشریف لائیں نادرہ قریشی، ثروت عارف اور تبسم نے بھی محفل میں شرکت کی ۔ محفل میں کراچی کے حالات سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کی گئی
۔ ایک دوسرے کا حال احوال جاننے کے بعد مشاعرہ بپا ہوا۔ پروفیسر رضیہ سبحان نے مشاعرے کی صدارت کی اور نظامت کے فرائض افروز رضوی نے انجام دیئے۔ مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ایسی غزلیں یا نظمیں سنائی گئیں جو پہلے کہیں بھی نہیں سنائی گئیں۔ نجمہ عثمان نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ان کی آمد کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا۔
ہنسی مذاق کے ماحول میں بہترین شاعری سننے کو ملی۔ نجمہ عثمان نے 1994 میں کراچی کے حالات پر لکھی نظم "میں ڈر رہی تھی” سنائی جسے بےحد پسند کیا گیا۔ رضیہ سبحان نے نجمہ عثمان کے لیے "محبت” کے عنوان سے نظم سنائی۔ میں نے (کامران مغل) دو نظمیں سنائیں جن میں "اللہ مغفرت کرے اور تم ہار چکے ہو” مندرجہ ذیل میں چندہ اشعار ملاحظہ کیجیئے
بہت سے لوگ یہاں زندگی سے ہار گئے
اور ایک ہم کہ کئی مرحلے گزار گئے
تمہارے وصل کی گھڑیاں شمار میں رکھیں
تمہارے ہجر کے لحمے بلاشمار رہے
تمہارے پیار کا ہر بول دل میں بس کے رہا
مگرجو طنز تھے میرے جگر کے ہار گئے
۔۔۔
جو یہ سکون میرے دل کو اب ملا ہوا ہے
نسیم ذات کی اپنی مجھ کو عطا ہوا ہے
(پروفیسر رضہ سبحان)
۔۔۔۔۔۔
گھر کی مٹی میری نظر میں رہی
اور میں اجنبی سفر میں رہی
بیٹوں کی ہری بھر سی ہنسی
اپنے مہکے کے بام و در میں رہی
کوئی شاہد میرے لیے اداس تھا
میں بھی اس دن اداس گھر میں رہی
۔۔
میں اپنے آپ کو رشتوں میں رکھ کر بھول گئی
کہاں کہاں بٹی حصوں میں رکھ کر بھول گئی
(نجمہ عثمان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جذبوں کا لمحہ لمحہ نیا سلسلہ بھی ہے
ہے چودھویں کا چاند سمندر چڑھا بھی ہے
تم نے کہا نباؤ گے میں نے یقین کیا
اتنا تو جھوٹ کار وفا میں روا بھی ہے
اب اسی کی امان میں دی میں اپنی ہر خوشی
شہ رگ سے جو قریب نظر سے جدا بھی ہے
۔۔
کہیں نہ ہونے کی وحشت سے مر رہی تھی میں
کہ گھر میں رہتے ہوئے در بدر رہی تھی میں
(تسنیم حسن)
۔۔۔۔۔۔
اسے خبر ہے اسے پتا ہے
عروج کس کو زوال کس کو
وہ جو خدا ہے وہ جانتا ہے
عروج کس کو زوال کس کو
میں جس کے آگے جھکی ہوئی ہوں
اسی خدا سے میں مانگتی ہوں
وہ بانٹتا ہے وہ بادشاہ ہے
عروج کس کو زوال کس کو
۔۔
جب تمہارے عشق میں، میں نے جلائی انگیاں
میرے پاگل پن پر بھی تم نے اٹھائی انگیاں
چاہتوں کے دائرے جب بے نشان ہونے لگے
پھر میرے خون تمنا میں نہائی انگیاں
رات بھر ایسا ہوا کہ پیڑ کے سائے تلے
یاد آئے تم اور تمہاری یاد آئیں انگیاں
(افروز رضوی)
۔۔۔۔
کسی کے ساتھ ہوں میں، تہمارے ساتھ کوئی
میں چاہتی ہی نہیں ایسی ملاقات ہو کوئی
جہاں کہیں بھی رہو آپ بس ہمارے رہو
ہمارے کان میں پہنچے نہ ایسی بات کوئی
یہ میرا وہم ہے تم ہو یا ہے کوئی اور
قدم بڑھاؤں تو چلتا ہے ساتھ ساتھ کوئی
(سحرعلی)
مشاعرے سے قبل نجمہ عثمان صاحبہ کی جانب سے پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔۔ جس میں کڑی چاول، شامی کباب، چپاتی، بھگاڑے بیگن (تسنیم حسن بناکر لائیں) ہری مرچ کا مصالحہ، توری کا سالن میٹھے میں گلاب جامن اور شیر خورمہ شامل تھا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ چائے کا بھی دور چلا۔ آخر پر کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا اور یوں یہ محفل یادیں سمیٹ کر











