• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

پاکستان بنانا ریپبلک بن چکا ہے

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 23, 2026
in کالمز
0
پاکستان بنانا ریپبلک بن چکا ہے
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

یادش بخیر ۔ تقریبا دس برس قبل جون 2016 میں "کرپشن سے نجات کیوں کر ؟ ” کے عنوان سے میں نے سات کالموں کی ایک سیریز قلمبند کی تھی ۔ اس سیریز کے دوسرے حصے میں بنانا ریپبلک کے حوالے سے بھی لکھا تھا ۔ 16 جون 2026 کو لکھے گئے اس آرٹیکل سے پہلے درج ذیل اقتباس دیکھتے ہیں اور پھر پاکستان کے موجودہ حالات پر ایک نگاہ ۔

"آخر یہ ممالک کیوں کر قرض کا طوق اپنے گلے میں ڈالتے ہیں ۔ میری پوری کتاب جنگوں کے سوداگر اس بارے میں موجود ہے ، خاص طور سے بینک آف انگلینڈ کا قیام اور مالیاتی سازشیں والے ابواب ۔ اس کے بارے میں ہم آج کے دورسے بھی آسان ترین حوالے لے سکتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ عالمی سازش کار اپنے ایجنٹ پورے ملک میں بٹھاتے ہیں ۔ اس کے لیے یہ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ۔ انگریزی میں ایک محاورہ Banana Republic بہت مشہور ہے۔ اسے کٹھ پتلی حکومت کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کی تمام تر طاقت ، تجارت، فوج ، پولیس ، عدلیہ ، پارلیمنٹ ، یہ سب کچھ ایک ننھے سے مگر طاقتور ترین گروپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی گروپ فیصلے کرتا ہے کہ ملک میں کب کیا قانون ہوگا اور اب کون حکمراں ہوگا ۔ یہ Banana Republic کیا ہوتی ہیں اور یہ محاورہ کہاں سے نکلا ، اگر ہم یہ جان لیں تو بہت ساری باتیں سمجھنا آسان ہوجائے گا ۔

لاطینی امریکا کے کئی ممالک کی پوری معیشت کا صرف اور صرف کیلے پر انحصار ہے ۔ یہ 1870 کا ذکر ہے کہ ایک امریکی جہاز راں لارینزو ڈاو بیکر نے جمیکا کے یک جزیرے سے کیلے خریدے اور انہیں دس گنا منافع پر بوسٹن میں فروخت کردیا ۔ اتنا بھاری منافع دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے منہ میں بھی پانی لے آیا اور وہ بھی میدان تجارت میں کود پڑیں ۔ ان ہی لاطینی امریکی ممالک میں ہنڈراس کا ملک بھی ہے جہاں پر کیلا بہترین بھی تھا اور وافر بھی ۔ اب ان ملٹی نیشنل کمپنیوں نے زائد منافع کے لیے خود ہی زمینیں بھی خریدنی شروع کردیں اور منڈی سے بندرگاہ تک کیلے کی فصل پہنچانے کے لیے ریل کے ٹریک بھی بچھانے شروع کردیے ۔ اب ان کمپنیوں میں زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے مسابقت شروع ہوگئی ۔ انیسویں صدی کے آخر تک اس منافع بخش کاروبار میں صرف تین ہی کمپنیاں رہ گئیں اور انہوں نے باقی کمپنیوں کو کاروبار سے باہر کردیا ۔ یہ تین کمپنیاں تھیں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی ، دی اسٹینڈرڈ فروٹ کمپنی اور کویامیل فروٹ کمپنی ۔ ہنڈراس میں کیلوں کی کاشت، انہیں بندرگاہ تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹیشن اور امریکا میں فروخت ۔ اس سب میں ان تینو ں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔ اب جنگ ان تین امریکی کمپنیوں کے درمیان تھی ۔

کویا میل کمپنی نے پورے بزنس پر قبضے کے لیے بیسویں صدی کے شروع میں ہنڈراس کے ایک سابق صدر مینوئل بونیلا اور جنرل لی کرسمس کو اپنا تجارتی پارٹنر بنالیا ۔ بعد میں جنرل لی کرسمس ملک میں فوجی انقلاب لے آیا اور ایک منتخب حکومت کی چھٹی کردی گئی ۔ اس اثناء میں یہ کویا میل کمپنی ہنڈراس کے ججوں ، سیاست دانوں ، صحافیوں کو یا توگھروں پر بھیج چکی تھی یا پھر انہیں خرید چکی تھی ۔ اس طرح کویامیل کمپنی کا اب ہنڈراس پر مکمل کنٹرول ہوچکا تھا ۔ اب کویامیل کمپنی کا ہر لفظ قانون تھا ۔ انہوں نے اپنے کٹھ پتلی سیاست دانوں کے ذریعے مطلب کی قانون سازی کی ، اپنے کٹھ پتلی ججوں کے ذریعے مطلب کے عدالتی فیصلے کروائے ، اپنے کٹھ پتلی قانون نافذ کروانے والوں کے ذریعے مخالفین کی تطہیر کی اور اپنے زرخرید صحافیوں کے ذریعے عوام سے وہ سب کچھ چھُپایا جو وہ چاہتے تھے ۔ اب ملک میں کیلے برآمد کرنے والی ایک غیرملکی کمپنی حکمراں تھی اور ہنڈراس کے لوگ اور اس کے سارے وسائل اس کمپنی کے غلام ۔ آہستہ آہستہ سارے ہی لاطینی جزائر ان کیلا بیچنے والی کمپنیوں کے زیر نگیں ہوگئے ۔”

مندرجہ بالا اقتباس کو پڑھنے کے بعد دیکھتے ہیں کہ کون سی طاقتیں ہیں جوپس پردہ عملی طور پر پاکستان میں حکمراں ہیں اور جن کا ہر لفظ قانون ہے ۔ سب سے پہلے نمبر پر ہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ۔ ان کا ہر لفظ قانون ہے ۔ یہ جو چاہے نرخ مقرر کریں ، جب چاہیں نرخوں میں اضافہ کردیں ۔ کوئی ان سے پوچھنا تو دور کی بات ، اختلاف کی بھی جرآت نہیں کرسکتا ۔ پھر بجلی پیدا کرنے والی اور تقسیم کار کمپنیاں ہیں ۔ یہ جب چاہے نرخ بڑھا بھی سکتی ہیں اور گزرے کئی ماہ سے اسے لاگو کرکے مزید وصولی بھی کرسکتی ہیں ۔ بل جمع کرنے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد بیس فیصد سود تاخیری سرچارج کے نام پر بھی وصول کرتی ہیں اور تاریخ گزرنے کے اگلے دن بجلی کاٹنے بھی اس کے اہلکار پہنچ جاتے ہیں ۔ زائد بلنگ ڈھٹائی سے کرتی ہیں اور عدلیہ سمیت کوئی فورم نہیں ہے جہاں سے انصاف مل سکے کہ انہوں نے سب کو ہی خرید رکھا ہے ۔ ایک اور حیرت انگیز بات ۔ جس طرح مغلیہ سلطنت میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی اپنی پولیس ، اپنا قانون اور اپنی عدالت تھی ۔ کچھ ایسا ہی پاکستان میں بھی ہے ۔ ہر ادارے کی اب اپنی پولیس ، اپنا تھانہ اور اپنا لاک اپ ہے ۔ جہاں پر یہ آزاد شہریوں کو حراست میں رکھ کر تشدد بھی کرتے ہیں اور آزادانہ تاوان بھی وصول کرتے ہیں ۔ کے الیکٹرک کی اپنی پولیس ہے ، سوئی سدرن گیس کمپنی کی اپنی پولیس ہے ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی اپنی پولیس ہے وغیرہ وغیرہ ۔

ادویہ ساز کمپنیاں اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کرتی ہیں ، قیمتوں میں اضافہ سے قبل ادویہ مارکیٹ سے غائب کردی جاتی ہیں اور پھر کئی گنا اضافہ کے ساتھ مارکیٹ میں پھر سے موجود ہوتی ہیں ۔ پہلے سوئی گیس کا محکمہ کارکر دگی میں مثال تھا، اب یہ لوڈ شیڈنگ ، اوور بلنگ اور صارفین کے ساتھ بدتہذیبی میں کے الیکٹرک سے بھی بازی لے گیا ہے ۔ یہ تو وہ ادارے ہیں جو سامنے نظر آتے ہیں ۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیاں تو پس پردہ ہیں مگر ایک ہی اسٹروک میں یہ کھربوں روپے کچھ کیے بغیر اپنی جیب میں ڈال لیتی ہیں ۔ ان کے معاہدے ختم ہوچکے ہیں ، یہ بجلی بھی پیدا نہیں کر رہی ہیں مگر کھربوں کی ادائیگیاں جاری ہیں ۔ سینڈک اور دیگر کانوں سے سونا، معدنیات اور دیگر قیمتی دھاتیں نکال نکال کر ملک سے باہر منتقل کی جارہی ہیں مگر ملک کو کچھ حاصل نہیں ۔

یہ سب کیوں کر ممکن ہے ؟ یہ سب اس لیے ممکن ہے ملک میں اقتدار میں شامل ہر قوت ان کی شراکت دار ہے ۔ ملک پر قابض یہ شراکت دا ر حکمراں چند ٹکوں کے عوض ان کمپنیوں کے آگے اپنے ملک کے شہریوں کو اس طرح ڈال دیتے ہیں جس طرح بھوکے جنگلی کتوں کے سامنے بے دست و پا انسان ۔

وقت آگیا ہے کہ ان لٹیروں کا آڈٹ کیا جائے ۔ چاہے ادویات ہوں یا پٹرول، قدرتی گیس ہو یا بجلی ، ان سب کا حساب کیا جائے ۔ نہ صرف ان کے نرخ متناسب کیے جائیں بلکہ پچھلا لوٹا ہوا مال بھی نکلوایا جائے ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خودکش حملہ آور خواتین گرفتار

اگلی پوسٹ

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کر گئے

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کر گئے

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کر گئے

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper