• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

جنرل عاصم منیر کے پاؤں سے لپٹی ’لاشیں‘

امتیاز احمد

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 17, 2026
in کالمز
0
جنرل عاصم منیر کے پاؤں سے لپٹی ’لاشیں‘
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گزشتہ چند ماہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر معمولی رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سمیت کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے یہ رپورٹ دی کہ تہران کے دورے کے بعد پاکستانی قیادت کی جانب سے تیار کردہ مسودہ امریکی اور ایرانی حکام کو جائزے کے لیے بھیجا گیا اور یہ کہ امریکہ اور ایران دونوں کو پاکستانی عسکری قیادت پر بیک وقت اعتماد حاصل رہا۔

اس پیش رفت کے بعد یورپی یونین نے ایک مرتبہ رک کر دوبارہ پاکستان کو ’’پیار کی نگاہ‘‘ سے دیکھا۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ بھی ٹیلی فون کی لائن پر انتظار کرتے نظر آئے، جو پاکستان کو الماری کے کسی خانے میں رکھ کر بھول چکے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل منیر کے لیے تحسین آمیز جملے استعمال کیے اور انہیں اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کے طور پر متعارف کرایا۔ اس سے قبل مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ چار روزہ فضائی تصادم کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جا چکی تھی۔اس پس منظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان، جسے عموماً محض ایک علاقائی عسکری قوت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، اب سفارتی میدان میں بھی ایک فعال کھلاڑی کے طور پر اُبھرا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ اور خطے میں ثالثی کا کردار اس تاثر کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ بلندی پائیدار ہے؟ کیا محض بیرونی سفارت کاری کسی ملک کے عالمی قد کاٹھ کو مستقل بنیادوں پر بلند کر سکتی ہے، جبکہ اسی ملک کے اندر سکیورٹی، سیاسی اور آئینی بحران بیک وقت جنم لے رہے ہوں؟عالمی تعلقات کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ کسی بھی ریاست کی عالمی حیثیت اور اثر و رسوخ کا براہ راست تعلق اس کی داخلی ہم آہنگی، سیاسی جواز اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی سے ہوتا ہے۔جب داخلی تناؤ بڑھتا ہے تو بیرونی سفارتی کامیابیاں بھی وقتی اور کمزور ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ سرمایہ کار، اتحادی اور بین الاقوامی ادارے بالآخر ریاست کے اندرونی استحکام ہی کو پائیداری کا معیار سمجھتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ صورتحال اسی مشاہدے کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی سطح پر تحسین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر کم از کم چار محاذ ایسے ہیں، جو اس بلندی کو نیچے کی طرف کھینچ رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ چار لاشیں جنرل عاصم منیر کے پاؤں کے ساتھ ساتھ پاکستان سے لپٹی ہوئی ہیں اور ان کے وزن کے ساتھ اڑنا ناممکن ہے۔

علیحدگی پسند بلوچوں کے حملوں میں اضافہ

آپ دیکھیں ایک طرف خبر آتی ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کو ایک کمرے میں بٹھا دیا ہے، دوسری طرف زیارت میں مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر ہونے والے ایک بڑے حملے میں نو پولیس اہلکار ہلاک ہو جاتے ہیں۔خبر آتی ہے کہ پاکستان عالمی امن کے لیے ضروری ایران امریکہ ڈیل کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے، ساتھ ہی فوج کا بیان آتا ہے کہ صرف چار روز کے دوران بلوچستان میں تین بڑے حملوں میں 42 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔فوجی ترجمان نے ان حملوں کے پیچھے بھارتی سرپرستی کا الزام عائد کیا، جبکہ آزاد مبصرین اس صورتحال کو صوبے میں برسوں سے جاری معاشی محرومی، سیاسی بیگانگی اور مسنگ پرسنز جیسے مسائل سے بھی جوڑتے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، نتیجہ یہی ہے کہ ریاست کو اپنی ہی سرزمین کے ایک وسیع حصے میں روزانہ کی بنیاد پر جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں طالبان کا خطرہ

جونہی پاکستان کا نام ’’پیس میکر‘‘ کے طور پر آتا ہے، خیبر پختونخوا میں بھی کوئی نہ کوئی حملہ ہو جاتا ہے۔ صوبے کی حکومت، جو پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہے، وفاق اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی کشیدگی کا شکار رہی ہے، جس نے سکیورٹی معاملات پر مربوط پالیسی سازی مزید پیچیدہ ہو چکی ہے جبکہ حملہ آوروں کو افغان طالبان کے چند دھڑوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اعتماد کا بحران

جون 2026ء میں حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے نتیجے میں مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں ہفتوں سے احتجاج، ہڑتالیں اور مظاہرین و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تصادم جاری ہے۔اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اکثر مطالبات مان لیے گئے تھے اور تنازع محض مہاجر نشستوں کے مسئلے پر باقی رہ گیا تھا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کشمیر جیسے حساس علاقے میں بھی سیاسی اعتماد کتنی آسانی سے متزلزل ہو سکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم کشمیری ہر ویک اینڈ پر احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں۔

تحریک انصاف پر پابندیاں اور نہ ختم ہونے والے مقدمات

بانی پی ٹی آئی عمران خان مئی 2023ء سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فروری 2026ء تک ان کے وکلاء کے مطابق وہ ملک بھر میں ایک سو اسّی سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے تھے اور طبی رپورٹس کے مطابق تاخیر سے علاج کے باعث ان کی ایک آنکھ کی بینائی کا بڑا حصہ متاثر ہوا۔حکومت ان کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کی تردید کرتی ہے اور اصرار کرتی ہے کہ تمام سہولیات قواعد کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود، اس صورتحال نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کی ہے، جو مناسب قانونی کارروائی کے حوالے سے سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔ سیاسی درجہ حرارت کا یہ تسلسل ملک کے اندر جمہوری اداروں پر اعتماد اور سیاسی استحکام دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔جنرل عاصم منیر ملک کی اس سیاسی قیادت کا سہارا لے کر اُڑنے کی کوشش میں ہیں، جو اقتدار میں آنے سے پہلے کرپشن کے کنوئیں میں پاؤں سے سر تک ڈوبی ہوئی تھی لیکن انہیں نئے کپڑے پہنا کر دھاندلی کے ساتھ ایوانوں میں بٹھا دیا گیا۔ عوام خاموش ہے، خاموش اس وجہ سے ہے کہ جیلوں میں قید ورکروں کی مثالیں ان کے سامنے ہیں لیکن جونہی موقع ملتا ہے، عوام ’’رسیاں توڑ‘‘ کر موجودہ قیادت کے خلاف بول پرتی ہے۔یہ چاروں محاذ الگ الگ نوعیت کے ہیں مگر ان کا مشترکہ اثر ایک ہی ہے۔ جہاں سفارتی و عسکری کامیابیاں، جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو بین الاقوامی منظرنامے پر بلند کر رہی ہیں، وہاں اندرونی محاذ اور سیاسی بحران پاکستان کو اپنی پوری قوت کے ساتھ نیچے کھینچ رہے ہیں۔عالمی سرمایہ کار اور اتحادی ممالک کسی ریاست کی ساکھ کا اندازہ محض اس کی سفارتی مہارت سے نہیں بلکہ اس کی اندرونی سکیورٹی، سیاسی جواز اور انسانی حقوق کی صورتحال سے بھی لگاتے ہیں۔

گروہی تصادم، سیاسی محاذ آرائی اور کمزور ریاستی جواز کسی ملک کی طویل المدتی ترقی اور عالمی وقار دونوں کو محدود کر دیتے ہیں، چاہے اس کی خارجہ پالیسی کتنی ہی مؤثر کیوں نہ ہو۔پاکستان کے لیے راستہ واضح ہے: اگر سفارتی کامیابیوں کو ملک کے پائیدار عالمی قد کاٹھ میں تبدیل کرنا ہے تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیاسی و اقتصادی محرومی کے بنیادی اسباب کا حل، آزاد کشمیر میں سیاسی مکالمے کی بحالی اور تحریک انصاف کی قیادت سے جڑے سیاسی تنازعے کو کسی منصفانہ اور مستقل حل تک پہنچانا ناگزیر ہے۔بصورت دیگر جنرل عاصم منیر کے پاؤں سے لپٹی یہ ’’لاشیں‘‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ بدبودار اور بھاری ہوتی جائیں گی اور ہر بار ان کی پرواز کے عین آغاز پر واپس زمین پر کھینچتی رہیں گی۔جنرل پرویز مشرف صاحب کا اقتدار کوئی دور کی بات نہیں ہے، آخر کار بیرونی ممالک کی حمایت بھی اُسی وقت تک رہتی ہے، جب تک عوام سڑکوں پر نہیں آ جاتے اور حالات ایسے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے سیاسی تالاب کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ایک کنکر مارا اور اس کی آواز پاکستان بھر میں سنائی دے رہی ہے۔

پچھلی پوسٹ

ہمیں اپنے شہدا ء اور غازیوں پر فخر ہے،اسلام امن، برداشت اور رواداری کا مذہب ہے،گورنر سندھ نہال ہاشمی

اگلی پوسٹ

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کی تعریف

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کی تعریف

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کی تعریف

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper