مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ کتابوں کی بھی قسمت ہوتی ہے۔ بعض کتابیں خاموشی سے شائع ہو کر لائبریریوں کی الماریوں میں گم ہو جاتی ہیں، اور بعض کو ایسے محبت کرنے والے مل جاتے ہیں جو انہیں صرف پڑھتے ہی نہیں، بلکہ ان
کے ذریعے علم، ادب اور تہذیب کے چراغ بھی روشن کرتے ہیں۔ میرا تازہ سفرنامہ "خواب نگر کا مسافر” بھی شاید انہی خوش نصیب کتابوں میں شامل ہو گیا کہ اس کو نہ صرف عام قارئین بلکہ صاحب کتاب خواتین و حضرات نے پذیرائی کی ہے۔ اس سفرنامہ کی تقریبِ رونمائی کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے توسط سے معروف شاعر خالد معین نے جس محبت، وقار اور علمی ماحول میں منعقد کی، وہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ادب سے وابستگی کا ایک خوبصورت اظہار تھا۔
کراچی پریس کلب کو لوگ صحافیوں کا گھر کہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ صحافیوں کا یہ گھر اہلِ قلم، اہلِ فکر اور
اہلِ ذوق کا بھی مرکز ہے۔ یہاں لفظوں کی حرمت ابھی باقی ہے اور کتاب کی عزت بھی۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ادبی کمیٹی مسلسل ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔ میرے سفرنامے کی رونمائی کا اہتمام کیا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ ایک کتاب کی رونمائی نہیں، بلکہ سفر، مطالعے اور قلم کی پذیرائی کی تقریب ہو۔
تقریب کا آغاز حسبِ روایت تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ معروف شاعر و ادیب خالد معین نے اپنی شگفتہ اور دلنشیں نظامت سے پوری نشست کو ایسا رنگ دیا کہ محفل کے آغاز اور اختتام کے درمیان وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ اچھی
نظامت کسی بھی تقریب کا حسن ہوتی ہے، اور اس روز یہ حسن پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں تھا۔ سامعین میں بھی نامور افراد موجود تھے، معروف مصور وصی حیدر، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر، طاہر حسن خان، سیکرٹری سردار لیاقت، معروف صحافی عامر لطیف اینکر پرسن براڈکاسٹر میاں طارق جاوید اور دیگر نامور شاعرہ گل افشاں، سوشل ورکر سانول، اور دیگر شامل تھے۔
اردو ادب کے معتبر نام پروفیسر سحر انصاری نے صدارتی خطاب میں سفرنامے کی ادبی روایت اور اس کی فکری اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اسے صرف سفری مشاہدات کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کے باہمی تعارف کا ایک مؤثر ذریعہ قرار
دیا۔ ان کے بقول بشیر سدوزئی روایتی سفرنامہ نگار نہیں، بلکہ جہاں سے گزرتے ہیں وہاں کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو بھی اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔ انہوں نے میری دیگر کتابوں کا بھی ذکر کیا اور فرمایا کہ آذربائیجان کا سفرنامہ ” کوقاف کی چوٹیاں” اور ترکیہ کا سفرنامہ "روشنی کے تعاقب میں” جس طرح اپنی اہمیت رکھتے ہیں، اسی طرح برطانیہ اور کینیڈا کا سفرنامہ "خواب نگر کا مسافر” بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ، ثقافت اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کو اس سفرنامے کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اپنے عہد کے نمایاں سفرناموں میں 



شامل ہونے کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس میں وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو ایک معیاری سفری دستاویز کا حصہ ہوتے ہیں۔
نامور صحافی و شاعر پیرزادہ سلمان نے سفرنامے کو معیاری قرار دیتے ہوئے رائے دی کہ بشیر سدوزئی نے سفر کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اسلوب اور معلومات کے اعتبار سے یہ کتاب ماضی کے نامور سفرناموں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے۔
میرے ہم جماعت اور دیرینہ ساتھی ایس ایم شجاع عباس ایڈووکیٹ نے میرے ماضی، جدوجہد اور شخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشیر سدوزئی مختلف ادوار سے گزر کر اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں لوگ انہیں ایک سنجیدہ اور معتبر ادیب کے طور پر دیکھتے ہیں۔معروف شاعر و محقق زاہد حسین جوہری نے کتاب کے مختلف ادبی، فکری اور فنی
پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے مختلف ابواب سے منتخب اقتباسات پیش کیے اور اپنے مخصوص تحقیقی انداز میں ان پر مدلل تبصرہ کیا، جس سے کتاب کے کئی نئے زاویے سامنے آئے۔ناصرہ زبیری نے اپنے ذاتی سفری تجربات کی روشنی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ جن مقامات کا ذکر اس کتاب میں ہے، وہ خود بھی وہاں جا چکی ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ دوبارہ اسی سفر میں شریک ہوں۔ خصوصاً کراچی سے استنبول، استنبول سے ہیتھرو ایئرپورٹ اور پھر وسطی لندن تک کے سفر کی منظرکشی انہیں بے حد دلکش اور جاندار لگی۔
ناہید سلطان مرزا، جو خود بھی معروف سفرنامہ نگار ہیں، نے اپنے تفصیلی مقالے میں خصوصاً ان ابواب کو سراہا جن
میں برطانیہ اور کینیڈا کے معاشروں، وہاں آباد پاکستانیوں کی زندگی، انسانی تعلقات اور ثقافتی رنگوں کی مؤثر عکاسی کی گئی ہے۔ ان کی رائے میں "خواب نگر کا مسافر” ایک متاثرکن، معیاری اور تحقیقی سفرنامہ ہے۔
ایک قلم کار کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی تحریر پر ادیب، اہلِ علم اور صاحبِ کتاب شخصیات سنجیدہ گفتگو کریں، اسے معیاری قرار دیں اور اس کے اسلوب، مشاہدے اور فکر کو موضوعِ بحث بنائیں۔ میں نے بھی اپنے خطاب میں اس سفر کے چند دلچسپ، رومانوی اور یادگار لمحے حاضرین کے ساتھ بانٹنے کے بجائے، تنگیٔ وقت
کے باعث صرف اتنا عرض کیا کہ یہ کتاب صرف میلوں کا سفر نہیں بلکہ دلوں، تہذیبوں اور انسانوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔میں نے زندگی میں بے شمار تقریبات میں شرکت کی ہے؛ کہیں مہمان کی حیثیت سے، کہیں مقرر کے طور پر اور کہیں منتظم کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے۔ مگر جب اپنی ہی کتاب زیرِ بحث ہو تو کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ انسان بولتا ضرور ہے، مگر اصل میں وہ سن رہا ہوتا ہے؛ اپنے بارے میں، اپنی تحریر کے بارے میں اور ان محبتوں کے بارے میں جنہیں لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں ہوتا۔
یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ آج کے شور، ہنگامے اور سوشل میڈیا کے عہد میں بھی کتاب زندہ ہے، مطالعہ زندہ ہے، اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نئی کتاب کی آمد کو ایک ادبی جشن میں بدل دیتے ہیں۔ کراچی پریس کلب کی یہ 


تقریب اسی امید کا استعارہ تھی کہ ابھی معاشرے میں علم کی شمع بجھی نہیں۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع ضرور کی گئی، لیکن اصل ضیافت وہ خیالات تھے جو مقررین نے پیش کیے، وہ محبت تھی جو دوستوں نے نچھاور کی، اور وہ حوصلہ تھا جو ایک قلم کار کو نئی راہوں پر چلنے کے لیے عطا کیا گیا۔سچ تو یہ ہے کہ سفر ختم ہو جاتے ہیں، راستے پیچھے رہ جاتے ہیں، تصویریں وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتی ہیں، مگر اگر سفر لفظوں میں ڈھل جائے تو پھر وہ صرف مصنف کا نہیں رہتا، ہر اس شخص کا ہو جاتا ہے جو کتاب کھول کر اس کے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ "خواب نگر کا مسافر” بھی اب میرا نہیں رہا، یہ اپنے قارئین کا سفر ہے، اور اس سفر کا پہلا خوبصورت پڑاؤ کراچی پریس کلب کی وہ یادگار شام تھی، جہاں کتاب کی نہیں بلکہ محبتوں کی رونمائی ہوئی۔ ان شاء اللہ اس کتاب کی اگلی تقریب اسلام آباد میں ہوگی۔





















