عہد گم گشتہ کے قد آور صحافی، ہمارے یار دل دار اور نارتھ ناظم آباد میں ہمارے محلے دار عبدالخالق علی خان مارشل کا مارشل لائی حکم تھا کہ اتوار کی شام آفاق احمد بھائی کی "نیاز حلیم” کی تقریب میں اس بار ہم ایک ساتھ جائیں
گے اور ممکن ہو سکا تو ڈاکٹر جبار خٹک کو بھی اپنے ساتھ لے لیں گے۔ ایفائے عہد پورا ہوا اور ہم دونوں ڈیفنس کے لئیے روانہ ہوئے تو کراچی میں سرائیکیوں کی ایک نمائندہ شخصیت اور میرے مہربان دوست ڈاکٹر طارق محمود بھی ہمارے ساتھ ہو لیئے، البتہ ڈاکٹر جبار خٹک پہلے سے طے شدہ اپنی کسی اور مصروفیت کی وجہ سے ہمارا ساتھ نہ نباہ سکے- یوں ہم اس بار ڈاکٹر جبار خٹک کے عالمانہ سیاسی تجزیوں سے محروم رہ گئے، جو وہ ہر سفر کے دوران بڑے جارحانہ انداز میں پیش کرتے رہتے ہیں۔
وجوہات کچھ اور بھی ہو سکتی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ ” مہاجر سے متحدہ” کی شناخت کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑنے والے مرد مجاہد آفاق بھائی جب سے لانڈھی کی مغموم گلیوں سے نکل کر حسنی حسینی سید حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں پناہ گزیں ہوئے ہیں، ہر سال محرم الحرام کے مہینے میں صحافیوں کے اعزاز میں ” نیاز حسین” کا سلسلہ ایک مستند روایت سی بنتا چلا جا رہا ہے جس میں شہر بھر کے چھوٹے بڑے صحافی شریک ہوتے ہیں اور آفاق بھائی کی بے پناہ محبتیں سمیٹ کر رخصت ہتے ہیں۔
آفاق احمد کی رہائش گاہ پر نشست ہو اور وہاں لندن، بہادر آباد، راولپنڈی اور اسلام آباد کے تذکرے نہ ہوں، یہ کیسے
ممکن ہے- اس بار بھی ملک میں جاری سیاسی سودے بازی، کراچی، سندھ اور وفاق کا مستقبل زیر بحث رہا۔ کشمیر میں جاری پاکستان مخالف کشمکش پر بھی احباب نے اظہار خیال کیا۔ آفاق بھائی کے ہاں نشست جمتی ہے تو نہ موضوعات کم پڑتے ہیں اور نہ ہی بولنے والوں کا کوئی کال پڑتا ہے۔
ہم نے مہاجر کارکنوں کے ہاتھوں پکائی ہوئی حلیم اور چائے کے خوب چسکے لیئے، چند تصویریں لیں اور آفاق بھائی کی شخصی محبوبیت کی خوش بوئیں سمیٹ کر گھروں کو روانہ ہو گئے- ہمارے یار دل دار ڈاکٹر طارق محمود کی آفاق احمد سے پہلی ملاقات ان کے لیئے خوش گوار حیرتوں کا موجب بنی، ہم بھائی سے دوبارہ ملنے کا عزم لیئے گاڑی میں بیٹھے اور نارتھ کی طرف روانہ ہو گئے

