نیٹرا دراصل ایک اڑتا ہوا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پاکستان کی بھارت کے اوپر ایک کی برتری تھی اور وہ تھی معلومات کی ، یعنی رئیل ٹائم انفارمیشن اور اس انفارمیشن کی بنیاد پر پاکستان نے ان کے جدید ترین ہتھیاروں کو کباڑ میں بکنے کے قابل بنا دیا اور بھارت کو ہوش آیا کہ صرف مہنگی ٹیکنالوجی جنگ نہیں جتوا سکتی بلکہ جب تک اس ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال نا کیا جایے تب تک اس کا فائدہ نہیں ہوگا
اور کوئی بھی ٹیکنالوجی سمجھنے کے لئے دماغ لگانا پڑتا ہے اس کو کھولنا اور کھوجنا پڑتا ہے اس کے کیے غیر ملکی کمپنیاں نا تو تعاون کرتے ہیں اور نا کچھ خاص سکھاتی ہیں اسی لیے بھارت کو مار پڑی کہ ان کے پاس جدید طیاروں کے سورس کوڈ ہی نہیں تھے تو اب انہوں نے اپنی ٹیکنالوجی کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے ، حالانکہ پہلے انہوں نے اپنی جنگی طیارے تیجاس کو بھی آزمایا تھا لیکن نتیجہ کچھ اچھا نہیں نکلا تھا اب انہوں نے رئیل ٹائم ٹریکنگ کے لیے اپنا نگرانی اور جاسوسی کا سسٹم لانچ کیا ہے
بھارت کو احساس ہو چکا ہے جنگیں اب صرف طاقتور لڑاکا طیاروں یا جدید میزائلوں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ اصل برتری اس ملک کو حاصل ہوتی ہے جو میدانِ جنگ کی مکمل تصویر سب سے پہلے دیکھ سکے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے تقریباً دو دہائیوں کی محنت کے بعد اپنے مقامی ساختہ نیٹرا (Netra) ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AEW&C) کو باضابطہ طور پر آپریشنل کلیئرنس دے دی ہے۔
نیٹرا دراصل ایک اڑتا ہوا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر ہے، جو فضاء میں رہتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹر دور تک دشمن کے طیاروں، میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات کا سراغ لگا سکتا ہے۔ اس میں نصب جدید AESA ریڈار تقریباً 375 کلومیٹر تک نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ یہ لڑاکا طیاروں، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور زمینی کمانڈ سینٹرز کو ایک ہی ریئل ٹائم نیٹ ورک میں جوڑ دیتا ہے۔
بھارت کے لیے اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ نیٹرا مکمل طور پر مقامی سافٹ ویئر اور سورس کوڈ پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے اس کے حساس نظام پر کسی بیرونی ملک کا انحصار نہیں رہے گا اور نئی ضروریات کے مطابق اسے مستقبل میں خود اپ گریڈ بھی کیا جا سکے گا۔
اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس ایسے تین پلیٹ فارم موجود ہیں، جبکہ مستقبل میں ان کی تعداد بڑھا کر اٹھارہ تک لے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو بھارتی فضائیہ کی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور فضائی جنگ لڑنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید فضائی جنگ میں صرف ایک مضبوط AEW&C پلیٹ فارم کافی نہیں ہوتا۔ اس کی مؤثر کارکردگی کا انحصار مضبوط ڈیٹا لنکس، جدید لڑاکا طیاروں، مربوط فضائی دفاعی نظام، الیکٹرانک وارفیئر اور تربیت یافتہ عملے پر بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے خطے میں فضائی برتری کی دوڑ اب صرف طیاروں کی تعداد نہیں بلکہ نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ بنتی جا رہی ہے۔
ویسے اگر نیٹرا کا کل نیٹ ورک 375 کلو میٹر ہے تو آپکو یاد ہونا چاہیے روسی ساختہ ایس 400 کا دائرہ کار چار سو کلومیٹر تک تھا لیکن اس کا کیا حشر ہوا آپ سب کو بہتر پتا ہے
تحریر: طییب سیف

