ملک معراج خالد درویش سیاستدان تھے ۔۔۔وہ وکیل، رکنِ پارلیمان، وفاقی وزیر، پنجاب کے وزیر اعلیٰ، قومی اسمبلی کے سپیکراور پھر وزیرِ اعظم بن کر اعلی ایوانوں میں گئے لیکن پھر بھی بوریا نشین معراج خالد ہی رہے۔۔۔۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے عزت کی معراج پر فائز ہو گئے ۔۔۔۔ بی بی سی نے” معراج خالد: پاکستانی وزیرِاعظم جنھوں نے اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے کم عمری میں دودھ بیچا "کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ معراج خالد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت کریں گے۔۔۔۔۔یوں کہ اب علی الصبح اٹھیں گے، مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کریں گے اور ریڑھے پر لاد کر شہر جا کر بیچیں گے، اور وہاں ہی سے فارغ ہو کر سکول چلے جایا کریں گے۔۔۔۔۔ نواب مظفر قزل باش کی حویلی میں بھی وہی دودھ پہنچاتے تھے۔انھوں نے بڑی مشکل سے سکول کے جوتے خریدے۔ ان کو زیادہ گِھسنے سے بچانے کے لیے ایک کپڑے میں لپیٹ کر ریڑھے پر رکھ لیا کرتے اور جب تک مختلف گھروں میں دودھ تقسیم کرتے، والد کے پرانے دیسی جوتے پہنے رکھتے اور صرف سکول کے وقت ہی میں سکول کے جوتے پہنتے تھے۔۔۔۔۔
معراج خالد کے مطابق ’سنٹرل ماڈل سکول کے پہلے مقامی ہیڈماسٹر لالا دھنی رام نے مجھے کہا تھا کہ تم بڑے آدمی بنو گے۔ میں بڑا آدمی بننا چاہتا تھا لیکن پہلی بار کسی نے مجھ سے ایسا کہا۔ ان کا یقین بھرا لہجہ عمر بھرمیرے ٹوٹے حوصلوں کو جوڑتا رہا۔۔۔۔’وہ خود مجھے گورنمنٹ کالج لاہورکے پرنسپل کے پاس لے کر گئے اور ان سے کہا کہ اس بچے کو اس کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ آپ کے کالج کی بہتری کے لیے لایا ہوں۔ میں نے چند روزگورنمنٹ کالج میں گزارے لیکن میرے قریبی دوستوں کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ ان کی دوستی کی خاطر میں نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا رخ کیا۔‘’لوگ میرے اس فیصلے پر بہت ہنسے لیکن ایک دیہاتی لڑکے کو اپنی دوستی پہ فخرتھا۔۔۔ملک معراج خالد نے بی اے کیا تو وہ اپنے گاؤں کے پہلے گریجوایٹ تھے۔انہوں نے یونیورسٹی لا کالج میں داخلہ لے لیا، اورایل ایل بی کرنے کے بعد وکالت شروع کردی۔‘
ریگل چوک کے ایک طرف عقب میں واقع لکشمی مینشن کے گراونڈ فلور پر 1964 کے بعد سے ان کا ایک سادہ سا فلیٹ تھا، جب کہ چوک کے دوسری طرف دیال سنگھ مینشن کے فرسٹ فلور پر ان کا وکالت کا دفتر تھا۔دیال سنگھ مینشن کے اسی فلور پر لاہور پریس کلب کا پرانا دفتر تھا، روزانہ سرشام جس کی بالکونی پر سب دوستوں کی محفل سجتی تھی۔
’معراج خالد عام طورپر پیدل ہی فلیٹ سے نکلتے، سڑک پار کرکے دیال سنگھ مینشن کی نکڑ پر واقع کھوکھے سے سگریٹ خریدتے اور سیڑھیاں چڑھ کر دفتر پہنچ جاتے تھے۔‘’سگریٹ بے تحاشا پیتے تھے۔‘
معراج خالد نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور1970میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر نواب مظفر قزلباش کو شکست دی، جن کی حویلی میں کبھی وہ دودھ پہنچایا کرتے تھے۔معراج خالد نے 1970 میں لاہور سے سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔‘ضمیرکا بحران‘ نامی ایک پمفلٹ میں انھوں نے ایوب خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کئی بنیادی مطالبے پیش کیے۔ اس اقدام کو بغاوت سے تعبیر کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنراور ایوب خان کے دست راست جنرل محمد موسیٰ کو اس جرات پر تعجب ہوا، طیش بھی آیا۔ جنرل موسیٰ نے اس تحریر کے حوالے سے اخباری نمائندوں سے کہا: یہ دو ٹکے کا آدمی ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے۔
نگران وزیرِاعظم کی حیثیت سے ملک معراج خالد نے سادگی اور کفایت شعاری کی ایک نئی مثال قائم کی۔ وہ اکثر بغیر پروٹوکول سفر کرتے تھے اور لاہور کے مال روڈ پر انھیں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔۔۔ معراج خالد وزیر اعلیٰ تھے تو انھیں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جانا تھا۔’ہال روڈ ہی پر رہائش تھی، ڈرائیور گاڑی کہیں لے کر گیا ہوا تھا۔ دیر تک واپس نہ آیا تو وہ ریگل چوک سے ایک رکشے پر سوار ہوکرگورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گئے۔‘
معراج خالد والد کے چھ ایکڑ رقبے میں اضافہ نہ کرسکے۔ نام کے ساتھ ’ملک‘ لکھا جاتا تو اچھا نہ لگتا کہ ایسے لاحقوں سے تکبرکی بو آتی۔معراج خالد کی اہلیہ محمودہ سکول میں پڑھاتی تھیں۔۔۔ مہمان آتے تو خود چائے بناتیں۔ انھوں نے ہمیشہ سرکاری مراعات سے گریز کیا۔ اگر اپنی گاڑی نہ ہوتی تو رکشا، ٹیکسی یا بس میں سفر کرتیں۔‘’معراج خالد وزیر اعظم بنے تو ان کی اہلیہ نے وزیراعظم ہاؤس میں رہنا پسند نہ کیا۔‘ملک معراج خالد کی وفات 13 جون 2003 کوہوئی۔ پسندیدہ باغ لارنس گارڈن یا باغ جناح تھا جہاں ہر روزاپنی صبح کا آغازکرتے۔نمازجنازہ یہیں پڑھائی گئی۔ آبائی گاؤں ڈیرا چاہل میں دفن ہیں۔۔۔۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
