• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

موبائل فون نے خاندانوں کو قریب کیا یا دور؟

تحریر : فرحانہ اشرف فرحانہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جون 4, 2026
in کالمز
0
موبائل فون نے خاندانوں کو قریب کیا یا دور؟
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

موجودہ دور کو اگر “موبائل فون کا دور” کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج ایک چھوٹے سے آلے نے پوری دنیا کو انسان کی ہتھیلی میں سمو دیا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے رات سونے تک موبائل فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تعلیم، کاروبار، تفریح، رابطے اور معلومات—ہر شعبے میں موبائل فون نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موبائل فون نے خاندانوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا ہے یا ان کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں؟ اس سوال کا جواب یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
موبائل فون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے دوریوں کو کم کر دیا ہے۔ پہلے جو رشتہ دار ایک دوسرے کی آواز سننے کے لیے مہینوں انتظار کرتے تھے، آج ویڈیو کال کے ذریعے ایک لمحے میں ایک دوسرے کو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ بیرونِ ملک رہنے والے افراد اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ خوشی ہو یا غم، ایک فون کال یا ویڈیو کال فاصلے سمیٹ دیتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ موبائل فون نے خاندانوں کو پہلے سے زیادہ قریب کر دیا ہے۔
اسی طرح ہنگامی حالات میں موبائل فون بہت بڑی نعمت ثابت ہوتا ہے۔ کسی حادثے، بیماری یا مشکل وقت میں فوری رابطہ ممکن ہو جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی خیریت سے باخبر رہتے ہیں اور بچے بھی اپنے گھر والوں سے آسانی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ خاندانی گروپس، تصاویر اور پیغامات ایک دوسرے سے تعلق کو کسی حد تک مضبوط رکھتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف حقیقت کا ایک تلخ رخ بھی موجود ہے۔ موبائل فون نے جسمانی قربت کے باوجود دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے موبائل اسکرینوں میں گم رہتے ہیں۔ پہلے خاندان اکٹھے بیٹھ کر گفتگو کرتے، دکھ سکھ بانٹتے اور ایک دوسرے کے جذبات سمجھتے تھے، مگر اب کھانے کی میز پر بھی خاموشی ہوتی ہے اور ہر شخص اپنے فون میں مصروف نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی خاندانی نظام کو متاثر کیا ہے۔ لوگ حقیقی رشتوں کے بجائے مصنوعی دنیا میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ بچوں اور والدین کے درمیان مکالمہ کم ہو رہا ہے۔ نوجوان گھنٹوں موبائل پر وقت گزارتے ہیں جبکہ بزرگ تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہی موبائل فون غلط فہمیوں، بے اعتمادی اور خاندانی جھگڑوں کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں تو خاندانی نظام ہمیشہ محبت، احترام اور میل جول کی بنیاد پر قائم رہا ہے۔ ہمارے ہاں مشترکہ خاندان، بزرگوں کی عزت اور آپس کی قربت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن جب موبائل فون ضرورت کے بجائے لت بن جائے تو یہی چیز خاندانی اقدار کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کئی گھروں میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور محسوس ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ موبائل فون نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ہے۔ اگر موبائل فون کو اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ خاندانوں کو قریب لانے کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ محبت، گفتگو اور خاندانی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل فون کو سہولت کے طور پر استعمال کریں، زندگی کا مرکز نہ بنائیں۔ خاندان کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے اور ایک دوسرے کو وقت دینے کی روایت کو زندہ رکھنا ہوگا۔ اگر ہم توازن قائم کر لیں تو موبائل فون جدید سہولت بھی رہے گا اور خاندانی رشتے بھی مضبوط رہیں گے۔

موبائل فون کے نقصانات

موبائل فون بظاہر انسان کو دنیا کے قریب لایا ہے، لیکن حقیقت میں اس نے گھروں کے اندر فاصلے بڑھا دیے ہیں۔ آج ہر فرد اپنے فون میں مصروف ہے اور خاندانی تعلقات پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔ موبائل فون کے بے جا استعمال نے معاشرتی اور خاندانی زندگی پر گہرے منفی اثرات ڈالے ہیں۔

1۔ خاندانی گفتگو کا خاتمہ

پہلے گھر کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے، باتیں کرتے، ہنستے اور اپنے مسائل بانٹتے تھے، مگر اب ہر شخص موبائل اسکرین میں گم رہتا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے لوگ بھی ایک دوسرے سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ اس خاموشی نے رشتوں کی گرمی کم کر دی ہے۔

2۔ والدین اور بچوں میں فاصلے

بچے گھنٹوں گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے ہیں جبکہ والدین بھی اپنے فون میں کھوئے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچوں کی تربیت، جذبات اور مسائل پر توجہ کم ہو گئی ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد اور قربت متاثر ہو رہی ہے۔

3۔ ذہنی تناؤ اور تنہائی

موبائل فون انسان کو حقیقی زندگی سے دور کر رہا ہے۔ لوگ ورچوئل دنیا میں مصروف ہو کر تنہائی، بے چینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی زندگی دیکھ کر احساسِ کمتری بھی بڑھتا ہے۔

4۔ خاندانی نظام کی کمزوری

پاکستانی معاشرہ خاندانی اقدار، بزرگوں کے احترام اور میل جول کے لیے مشہور تھا، مگر موبائل فون نے ان روایات کو کمزور کیا ہے۔ اب خاندان اکٹھے بیٹھنے کے بجائے الگ الگ کمروں میں وقت گزارتے ہیں۔

5۔ وقت کا ضیاع

موبائل فون انسان کا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے۔ لوگ گھنٹوں بے مقصد ویڈیوز، چیٹنگ اور سوشل میڈیا پر وقت گزار دیتے ہیں۔ یہی وقت اگر خاندان، تعلیم یا مثبت سرگرمیوں کو دیا جائے تو زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔

6۔ ازدواجی تعلقات پر منفی اثرات

میاں بیوی کے درمیان بھی موبائل فون ایک بڑی دیوار بنتا جا رہا ہے۔ غیر ضروری چیٹنگ، سوشل میڈیا اور مسلسل مصروفیت غلط فہمیاں اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے، جس سے گھریلو سکون متاثر ہوتا ہے۔

7۔ بچوں کی اخلاقی تربیت متاثر

انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے بچے ہر قسم کے مواد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر نگرانی نہ ہو تو یہ ان کی اخلاقیات، زبان اور عادات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

8۔ صحت کے مسائل

موبائل فون کا زیادہ استعمال آنکھوں کی کمزوری، نیند کی خرابی، سر درد اور ذہنی تھکن کا سبب بنتا ہے۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے انسان چڑچڑا اور بے صبر بھی ہو جاتا ہے۔

نتیجہ
موبائل فون بذاتِ خود بُری چیز نہیں، مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال خاندانی محبت، رشتوں کی مضبوطی اور ذہنی سکون کو تباہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل فون کو اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں بلکہ اسے صرف ضرورت اور اعتدال کے ساتھ استعمال کریں تاکہ خاندان دوبارہ محبت، گفتگو اور قربت کا گہوارہ بن سکے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موبائل فون نے خاندانوں کو قریب بھی کیا ہے اور دور بھی، مگر اس کا فیصلہ ہمارے اپنے رویّے اور استعمال پر منحصر ہے۔ اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو سمجھ داری سے استعمال کریں تو یہ محبتوں کو بڑھا سکتی ہے، ورنہ یہی آلہ خاموش فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔

پچھلی پوسٹ

عوام کیخلاف سازشیں چھپ نہیں سکتیں: بلوچستان کا مستقبل روشن، چمکدار اور خوبصورت ہے۔محترمہ فرح عظیم شاہ

اگلی پوسٹ

61سالہ اداکار عامر خاں 5جولائی کوتیسری مرتبہ بنیں گے دولھا ،دولھن ہوں گی “گوری سپراٹ “

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
61سالہ اداکار عامر خاں 5جولائی کوتیسری مرتبہ بنیں گے دولھا ،دولھن ہوں گی “گوری سپراٹ “

61سالہ اداکار عامر خاں 5جولائی کوتیسری مرتبہ بنیں گے دولھا ،دولھن ہوں گی “گوری سپراٹ “

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper